بدین ،قائد عوام بھٹو کی 98 ویں سالگرہ ضلعی کونسل میں منائی گئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بدین (نمائندہ جسارت) پاکستان پیپلز پارٹی ضلع بدین کی جانب سے قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 98ویں سالگرہ ضلعی کونسل بدین میں جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئی 98ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ضلع کونسل اور صدر پاکستان پیپلز پارٹی ضلع بدین جام علی اصغر ہالیپوتہ نے کہا کہ آج ہم سر شاہنواز بھٹو کے گھر پیدا ہونے والے دنیا کے عظیم رہنما قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 98ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس ملک کو 1973ء کا آئین دیا اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کی انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، شہید ذوالفقار علی بھٹو کے مشن ‘‘روٹی، کپڑا اور مکان’’ کو آگے بڑھاتے ہوئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، بارش سے متاثرہ افراد کے لیے مکانات اور دیگر فلاحی منصوبے فراہم کر رہے ہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا۔ شہید بھٹو پارٹی کے ہر کارکن کے دل میں زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی حاجی رسول بخش چانڈیو نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے غریب عوام، کسانوں اور مزدوروں کو اپنے حقوق کے لیے بولنا سکھایا انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے وقت پاکستان پیپلز پارٹی کے کو چیئرمین آصف علی زرداری نے ‘‘پاکستان کھپے’’ کا نعرہ لگایا انہوں نے مزید کہا کہ ہماری فوج پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے سرشار ہے، جسے دنیا نے دیکھ لیا ہے۔ ہماری پاک فوج نے مودی کو منہ توڑ جواب دے کر جنگ میں عظیم فتح حاصل کی۔اس موقع پر جنرل سیکریٹری پاکستان پیپلز پارٹی ضلع بدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی ورکر ہی پارٹی کی اصل طاقت ہیں، ہم ہر ورکر سے رابطے میں ہیں تقریب میں وائس چیئرمین ضلعی کونسل فدا حسین مندھرو، انفارمیشن سیکریٹری پیر وقار شاہ، جنرل سیکریٹری لیڈیز ونگ ساجدہ ٹالپر، ڈپٹی سیکریٹری حاجی میر ملاح، مختلف تعلقوں کے صدور، یونین کونسلوں کے صدور سمیت پارٹی کے تمام عہدیداران اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت۔
سجاول،ریٹائرڈ استاد انتقال کرگئے
سجاول(نمائندہ جسارت) حافظ عبیداللہ میمن، لطف اللہ میمن، نصیب اللہ میمن (شہزاد فرٹیلائزر) کے والد، سینئر استاد سائیں محمد خان میمن کراچی کے ایک نجی اسپتال میں خالقِ حقیقی سے جا ملے مرحوم کا جنازہ انکی رہائش گاہ سے اٹھایا گیا جبکہ تدفین مصری شاہ بخاری قبرستان میں عمل میں لائی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شہید ذوالفقار علی بھٹو پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا کہ انہوں نے بھٹو کی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔