بہادری اور قربانی کی روشن مثال اعتزاز حسن کا آج 12 واں یوم شہادت
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: 6 جنوری 2014ء کو 15 سالہ نوجوان اعتزاز حسن نے ہنگو میں گورنمنٹ ہائی سکول ابراہیم زئی پر خودکش حملے کو ناکام بنا کر 2 ہزار طلبہ کی جانیں بچائیں اور دشمن کے عزائم خاک میں ملا کر شہادت کا عظیم رتبہ حاصل کیا، آج ان کی 12ویں یوم شہادت ہے۔
اعتزاز حسن کی اس قربانی کی بدولت سیکڑوں ماؤں کی گود اجڑنے سے بچ گئی اور انہیں ان کی شجاعت پر تمغہ شجاعت سے بھی نوازا گیا۔
وہ غذائیں جو آپ کو صحت مند رکھتی ہیں
تاہم مسلسل دھمکیوں اور حکومتی وعدوں کے باوجود اعتزاز حسن کے خاندان کو مالی یا دیگر معاونت فراہم نہیں کی گئی جس کے باعث وہ معمول کی زندگی گزارنے سے قاصر ہیں۔ ان کے بھائی کا کہنا ہے کہ سال میں صرف یوم شہادت کے موقع پر ہی انہیں یاد کیا جاتا ہے باقی سال کوئی ان کا حال نہیں پوچھتا۔
اعتزاز حسن کے اساتذہ، دوست اور علاقے کے لوگ آج بھی ان کی بہادری اور قربانی پر فخر کرتے ہیں اور ان کی یاد کو زندہ رکھتے ہیں۔
پاکستان کبڈی فیڈریشن کی ڈسپلنری کمیٹی نے عبیداللہ راجپوت کو طلب کرلیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔