پینے کے پانی سے پلاسٹک کے ذرات صاف کرنے کا نہایت سادہ اور مؤثر طریقہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چینی سائنسدانوں نے پینے کے پانی میں چھپے ایک خاموش مگر بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک نہایت سادہ اور قابلِ عمل حل پیش کر دیا ہے، جس نے عالمی سطح پر صحتِ عامہ سے وابستہ حلقوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نل کے پانی اور تازہ پانی میں پائے جانے والے نینو اور مائیکرو پلاسٹک کے ذرات کو محض پانی اُبال کر بڑی حد تک ختم کیا جا سکتا ہے، جو انسانی صحت کے لیے مسلسل تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔
تحقیقی ماہرین کے مطابق روزمرہ استعمال کا پینے کا پانی ان باریک پلاسٹک ذرات کے انسانی جسم میں داخلے کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ یہ ذرات نہ صرف طویل عرصے تک انسانی جسم میں موجود رہ سکتے ہیں بلکہ ماحول میں بھی دیرپا اثرات چھوڑتے ہیں، جس کے باعث ماہرین انہیں مستقبل کا ایک سنگین صحت کا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔
چنگژو میڈیکل یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے بایومیڈیکل انجینئر ژی مِن یو اور ان کی ٹیم نے اپنی تحقیق میں واضح کیا کہ جب سخت نلکے کے پانی کو اُبالا جاتا ہے تو اس کی سطح پر کیلشیم کاربونیٹ کی ایک باریک، چونا نما تہہ بن جاتی ہے۔ یہی تہہ پانی میں موجود نینو اور مائیکرو پلاسٹک کے ذرات کو اپنے اندر قید کر لیتی ہے، جس کے نتیجے میں یہ ذرات پانی سے الگ ہو جاتے ہیں اور پینے کے قابل نہیں رہتے۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق سخت پانی کو اُبالنے سے 80 سے 90 فیصد تک نینو پلاسٹک کے ذرات مؤثر طور پر علیحدہ کیے جا سکتے ہیں، جو ایک غیر معمولی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اُبالنے کے بعد اگر پانی کو چائے کی عام چھنی یا کسی سادہ فلٹر سے گزار لیا جائے تو چونا نما تہہ میں پھنسے ہوئے پلاسٹک کے یہ باریک ذرات بآسانی الگ کیے جا سکتے ہیں، اگرچہ تازہ یا نرم پانی میں کیلشیم کاربونیٹ کی مقدار کم ہوتی ہے، تاہم یہ طریقہ وہاں بھی کسی حد تک کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق مائیکرو اور نینو پلاسٹک کی بڑی مقدار روزمرہ استعمال کی اشیاء سے پیدا ہوتی ہے، جن میں کپڑے، باورچی خانے کے برتن، ذاتی نگہداشت کی مصنوعات اور پلاسٹک پر مشتمل دیگر سامان شامل ہیں۔ یہ ذرات رفتہ رفتہ پانی میں شامل ہو جاتے ہیں اور جدید فاضل پانی کی صفائی کے نظام بھی انہیں مکمل طور پر ختم کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔
ٹیکساس یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بھی خبردار کیا گیا ہے کہ انسانی جسم میں پلاسٹک کے ذرات داخل ہونے کا سب سے بڑا راستہ پینے کا پانی ہے، کیونکہ زیادہ تر واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس ان نہایت باریک ذرات کو مکمل طور پر فلٹر نہیں کر پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسئلہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں اقسام کے ممالک میں یکساں طور پر موجود ہے۔
اگرچہ ابھی تک یہ بات حتمی طور پر ثابت نہیں ہو سکی کہ نینو اور مائیکرو پلاسٹک انسانی صحت کو کس حد تک نقصان پہنچاتے ہیں، تاہم سائنسی شواہد بتاتے ہیں کہ یہ ذرات انسانی آنتوں کے مائیکرو بایوم کو متاثر کر سکتے ہیں اور اینٹی بائیوٹکس کے خلاف جسم کے مدافعتی ردعمل پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ یہی خدشات اس تحقیق کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اُبالا ہوا پانی پینے کی عادت نہ صرف نینو پلاسٹک کے جسم میں داخل ہونے کے خطرات کو نمایاں حد تک کم کر سکتی ہے بلکہ یہ طریقہ عالمی سطح پر پلاسٹک آلودگی کے اثرات کو محدود کرنے کی سمت ایک سادہ مگر دیرپا حل بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیقی ٹیم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس طریقۂ کار پر مزید سائنسی مطالعات کی ضرورت ہے، تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ اُبالا ہوا پانی طویل مدت میں انسانی جسم کو مصنوعی مواد کے ممکنہ نقصانات سے کس حد تک محفوظ رکھ سکتا ہے۔
صحت کے ماہرین کے نزدیک یہ تحقیق ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ بعض اوقات پیچیدہ مسائل کا حل جدید ٹیکنالوجی نہیں بلکہ سادہ، آزمودہ اور روزمرہ طریقوں میں ہی پوشیدہ ہوتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پلاسٹک کے ذرات سکتے ہیں پانی میں سکتا ہے کے پانی یہ ذرات ہے کہ ا ا پانی
پڑھیں:
چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
چین کے جنوب مغربی شہر چونگ چنگ میں شدید گرمی کے پیش نظر چونگ چنگ چڑیا گھر نے جانوروں کو محفوظ اور آرام دہ رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑوں اور دیگر جانوروں کو ٹھنڈے پانی، پھلوں اور جدید کولنگ سسٹمز کے ذریعے گرمی سے بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق چونگ چنگ چڑیا گھر میں دیوقامت پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑے اور دیگر جانوروں کو شدید گرمی سے بچانے کے لیے ٹھنڈے پانی کے تالاب، مصنوعی بارش (مسٹنگ سسٹم)، سایہ دار مقامات اور خصوصی خوراک کا انتظام کیا گیا ہے۔
چڑیا گھر میں موجود دیوقامت پانڈا دن کے گرم اوقات میں پانی کے تالابوں میں وقت گزار رہے ہیں، جبکہ ان کے باڑوں میں مسلسل پانی کی باریک پھوار چلائی جا رہی ہے تاکہ درجہ حرارت کم رکھا جا سکے۔
اسی طرح دریائی گھوڑوں اور ہاتھیوں کو جسمانی درجہ حرارت متوازن رکھنے کے لیے تربوز اور دیگر پانی سے بھرپور پھل کھلائے جا رہے ہیں، جبکہ ان کے لیے نہانے اور پانی میں رہنے کے اضافی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پانڈا نسبتاً ٹھنڈے موسم کے جانور ہیں اور شدید گرمی ان کی صحت، خوراک اور روزمرہ سرگرمیوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی وجہ سے چین کے مختلف چڑیا گھروں میں موسمِ گرما کے دوران کولنگ سسٹمز، برف کے بلاکس، ایئر کنڈیشنڈ انڈور حصوں اور پانی سے بھرپور غذا کا استعمال معمول کا حصہ بن چکا ہے۔
چونگ چنگ چین کے گرم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں موسمِ گرما میں درجہ حرارت اکثر 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب یا اس سے بھی زیادہ پہنچ جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں شدید گرمی کی لہروں کے باعث مقامی انتظامیہ نے نہ صرف شہریوں بلکہ جنگلی اور قید جانوروں کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی منصوبے نافذ کیے ہیں۔
چڑیا گھر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موسمِ گرما کے دوران جانوروں کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ضرورت کے مطابق ان کے ماحول، خوراک اور طبی نگہداشت میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں تاکہ شدید گرمی کے باوجود انہیں کسی قسم کی تکلیف یا صحت کے خطرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں