وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کے وقت پہنا ہوا نائیکی کا ٹریک سوٹ آؤٹ آف اسٹاک
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
گزشتہ دنوں امریکا کی جانب سے رات گئے وینزویلا پر حملہ کرکے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرلیا گیا۔
بعد ازاں امریکی فوج کی جانب سے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کی کچھ تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں جن میں صدر مادورو کو نائیکی کا ٹریک سوٹ پہنے دیکھا جاسکتا ہے۔
تصاویر وائرل ہوتے ہی صدر مادورو کا پہنا جانے والا نائیکی کا ٹریک سوٹ مارکیٹ سے آؤٹ آف اسٹاک ہو گیا۔
متعدد آن لائن پلیٹ فارمز نے انکشاف کیا ہے کہ ٹریک سوٹس کی مانگ میں اچانک نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی جس میں وینزویلا کے صدر کو ایک جہاز پر آنکھوں پر پٹی باندھے اور ہتھکڑیاں لگے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس تصویر میں نکولس مادورو نے سرمئی رنگ کا نائیکی کا ٹریک سوٹ پہن رکھا تھا جو لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
یوں تو نکولس مادورو کی گرفتاری اور امریکی کارروائی پر وینزویلا سمیت عالمی سطح پر ملا جلا ردِعمل دیکھنے میں آیا، مگر ان کے لباس نے ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر میمز اور ویڈیوز کی شکل میں غیرمعمولی مقبولیت حاصل کی۔
View this post on Instagramگوگل ٹرینڈز کے مطابق تصاویر کے منظرِ عام پر آنے کے فوراً بعد ’نائیک ٹک‘ کی سرچز میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ سرمئی ٹریک سوٹ کے اسکرین شاٹس اور لنکس تیزی سے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پھیلتے رہے۔
ریٹیلرز کے مطابق نکولس مادورو کا سرمئی نائیک ٹیک فلیس ٹریک سوٹ عموماً مارکیٹ اور ماڈل کے لحاظ سے 240 سے 270 امریکی ڈالر میں فروخت ہوتا ہے، تاہم تصاویر وائرل ہونے کے چند ہی گھنٹوں میں کئی آن لائن لسٹنگز اسٹاک ختم ہونے کے باعث دستیاب نہ رہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نائیکی کا ٹریک سوٹ نکولس مادورو
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔