Nawaiwaqt:
2026-06-03@02:53:28 GMT
3 خودکشیاں، 2 بچوں کی ماں نے پھندا لگا لیا‘نوجوان کی زہر خورانی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
لاہور، کامونکی‘ نارنگ (نمائندگان) لاہور میں لال پل کے قریب 48سالہ عمارہ نے نامعلوم وجوہات پر گلے میں پھندالے کر خودکشی کرلی۔ متوفیہ 2 بچوں کی ماں تھی۔ پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ کامونکی میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر 25سالہ نوجوان جواد احمد ملک نے زہریلی گولیاں نگل لیں جسے تشویشناک حالت میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا‘ تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔ ورثاءنے قانونی کارروائی سے انکار کر دیا ہے۔ نارنگ منڈی کے نواحی گاﺅں ڈیرہ اشرف میں اونچی آواز میں ڈیک لگانے سے منع کرنے پر بھائیوں میں جھگڑا ہوگیا‘ بڑے بھائی علی شیر نے دلبرداشتہ ہوکر خود کو گولی مار کر خودکشی کرلی۔ متوفی کا والد افتخار احمد صدمے سے بے ہوش ہوگیا جسے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔