واشنگٹن(نیوز ڈیسک)وائٹ ہاؤس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں امریکی فوج کے استعمال کا امکان بھی مکمل طور پر خارج نہیں کیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے گزشتہ روز جاری بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ گرین لینڈ کا حصول امریکہ کی قومی سلامتی کی ترجیحات میں شامل ہے، کیونکہ آرکٹک خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ اور دشمن طاقتوں کو روکنے کے لیے یہ نہایت اہم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر اور ان کی ٹیم اس اہم خارجہ پالیسی ہدف کے حصول کے لیے مختلف راستوں پر غور کر رہی ہے، اور بطور کمانڈر ان چیف امریکی فوج کا استعمال بھی ہمیشہ ایک آپشن ہوتا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے رواں ہفتے قانون سازوں کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ گرین لینڈ کو خریدنے کے امکان پر غور کر رہی ہے، تاہم انہوں نے فوری طور پر فوجی مداخلت کے خدشات کو کم اہم قرار دیا۔

اس معاملے سے آگاہ دو ذرائع کے مطابق، اگرچہ حالیہ مہینوں میں اس موضوع پر عوامی سطح پر بات نہیں کی گئی، لیکن پس پردہ غور و خوض جاری رہا۔

ذرائع کے مطابق مارکو روبیو کی ٹیم کی درخواست پر امریکی محکمہ خارجہ نے حالیہ مہینوں میں گرین لینڈ کے قدرتی وسائل پر ایک تجزیہ بھی تیار کیا، جس میں نایاب معدنیات (ریئر ارتھز) سمیت دیگر غیر استعمال شدہ وسائل شامل ہیں۔

تجزیے میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ان وسائل کی اصل مقدار سے متعلق کوئی قابلِ اعتماد تحقیق موجود نہیں، جبکہ شدید سرد موسم اور بنیادی ڈھانچے کی کمی کے باعث ان وسائل تک رسائی پر بھاری اخراجات آ سکتے ہیں۔

گرین لینڈ جو ڈنمارک کے زیرِ انتظام ایک خود مختار خطہ ہے، اپنے قدرتی وسائل اور اسٹریٹجک محلِ وقوع کے باعث عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جبکہ امریکی بیان نے عالمی سطح پر نئی بحث اور خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: گرین لینڈ

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی