اسلام آباد میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی یونٹ قائم کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
اسلام آباد: وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے ایک خصوصی حفاظتی یونٹ قائم کیا جا رہا ہے۔وزارت داخلہ کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق محسن نقوی نے یہ بات چین کے پبلک سیکیورٹی کے وزیر وانگ ژیاؤ ہونگ سے بیجنگ میں ملاقات کے دوران کہی۔دونوں رہنماؤں کی ملاقات چین کی وزارتِ عوامی سیکیورٹی کے ہیڈکوارٹر میں ہوئی جہاں محسن نقوی کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔ملاقات کے دوران دونوں نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اور فوری ردعمل کے نظام کی تیاری پر اتفاق کیا، جس میں پولیس کی صلاحیت بڑھانے کے لیے تربیتی پروگراموں کی توسیع بھی شامل ہے۔ژیاؤ ہونگ نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں اور داخلی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں۔ملاقات میں دونوں وزرا نے پولیس اور حفاظتی اہلکاروں کی تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت بڑھانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا اور معلومات کے تبادلے کو یقینی بنانے کا عہد کیا۔محسن نقوی نے چینی وزیر کو پاکستان میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا.
واضح رہے کہ چینی شہری پاکستان میں متعدد بار حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ نیشنل کاؤنٹر ٹیرر ازم اتھارٹی کے ڈیٹا کے مطابق 2021 سے دسمبر 2024 تک دہشت گردانہ حملوں میں 20 افراد ہلاک اور 34 زخمی ہوئے۔یہ معلومات اُس وقت شیئر کی گئی تھیں جب ایک سیکیورٹی گارڈ نے کراچی میں دو چینی شہریوں پر فائرنگ کی، جس سے دونوں زخمی ہوئے۔ اکتوبر 2024 میں کراچی ائرپورٹ پر بم دھماکے میں دو چینی انجینئر ہلاک ہوئے اور متعدد زخمی ہوئے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جولائی 2024 میں کہا تھا کہ حکومت چینی شہریوں کے لیے محفوظ اور کاروباری ماحول قائم کرنے کے لیے ان کی سیکیورٹی بڑھا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ چینی کمپنیوں کا پاکستانی معیشت پر اعتماد ہمارے اقتصادی مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے، سی پیک کے تناظر میں چینی شہریوں کی حفاظت کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے اور تمام ائیرپورٹس پر ترجیحی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ملاقات میں دونوں فریقین نے سائبر کرائم کی روک تھام میں تعاون پر بھی بات کی۔محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی کی صلاحیت بڑھانے کے لیے چینی اداروں کی مدد سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چینی اے آئی ٹیکنالوجی دہشت گردی کے خلاف اور سیکیورٹی چیلنجز کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان پائیدار تعاون کا رشتہ ہے اور انہوں نے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے اور باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔ملاقات میں یہ طے پایا کہ ہر تین ماہ بعد مشترکہ ورکنگ گروپ کی میٹنگ ہوگی اور سال میں ایک بار وزارتی سطح کی ملاقات ہوگی۔محسن نقوی نے چینی وزیر کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے چینی صدر اور وزیراعظم کے لیے نیک خواہشات پیش کیں۔ژیاؤ ہونگ نے بھی پاکستان میں ہر سطح پر تعاون کرنے کی آمادگی ظاہر کی اور کہا کہ پاکستان اور چین اسٹریٹجک پارٹنرز ہیں. انہوں نے محسن نقوی اور ان کے وفد کے اعزاز میں دوپہر کے کھانے کی میزبانی بھی کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی دہشت گردی کے خلاف کہا کہ پاکستان محسن نقوی نے پاکستان میں سیکیورٹی کے اسلام آباد نے کہا کہ انہوں نے کہ چینی کے لیے
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔