وینزویلا اور کیوبا نے امریکی کارروائی میں ہلاک فوجیوں کے نام جاری کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
وینزویلا اور کیوبا نے امریکی کارروائی میں ہلاک ہونے والے اپنے فوجی اہلکاروں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کیوبا نے کراکس میں فوجی کارروائی میں مارے جانے والے 32 اہلکاروں کے نام جاری کیے ہیں، جن میں وزارت داخلہ کے 21 اہلکار اور 3 اعلیٰ افسران (دو کرنل اور ایک لیفٹیننٹ کرنل) شامل ہیں، باقی افراد انقلابی مسلح افواج کے ارکان تھے، جن میں زیادہ تر فوجی شامل تھے۔
دوسری جانب وینزویلا کی فوج نے بھی اپنی ہلاکتوں کی تفصیل جاری کی ہے، جس کے مطابق 23 اہلکار مارے گئے، جن میں 5 ایڈمرل، 16 مختلف رینک کے سارجنٹس اور 2 فوجی شامل ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وینزویلا میں کارروائی کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 75 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ ہلاکتیں مادورو کے کمپاؤنڈ پر شدید فائرنگ اور لڑائی کے دوران ہوئی۔
واضح رہے کہ امریکی ڈیلٹا فورس نے ہفتے کو وینزویلا پر کارروائی کی تھی، جس میں صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ان کے صدارتی محل سے گرفتار کر کے امریکہ منتقل کیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مادورو اور ان کی بیوی کو ان کے بیڈ روم سے گرفتار کر کے نیویارک لایا گیا، جہاں ان کے خلاف منشیات اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔
یہ کارروائی عالمی سطح پر تنازع اور تنقید کا باعث بنی ہوئی ہے جبکہ کیوبا اور وینزویلا نے امریکی حملے میں مارے گئے فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی فہرستیں جاری کی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔