جعلی چیکوں کے ذریعے رقم نکالنے کاکیس6فروری تک ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) اسپیشل جج اینٹی کرپشن کورٹ میں لیجنڈ ٹرسٹ اکاؤنٹ سے جعلی چیکوں کے ذریعے 5 کروڑ 56 لاکھ 88 ہزار 500 روپے نکالنے کا کیس،عدالت نے سماعت 6فروری تک ملتوی کرتے ہوئے چالان طلب کرلیا۔اینٹی کرپشن کورت میں سماعت کے موقع پر عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیاکہ مقدمے کا چالان کہاں ہے، افسر کاکہنا تھا کہ چالان پیش کرنے کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔عدالت نے سماعت 6فرو۔ری تک ملتوی کرتے ہوئے چالان طلب کرلیا ررپورت میں بتایا گیا کہ ملزموں نے اصل چیک بْک کے ری کوزیشن پیپر کو ہٹا کر جعلی پیپر لگایا گیا،جعلی چیک بْک محکمہ ثقافت کے ڈپٹی ڈائریکٹر عدیل احمد دایو کے قبضے میں بھی رہی، نعمت اللہ مبینہ طور پر فراڈ کا مرکزی کردار ہے، ملزم نے 8 جولائی سے 19 ستمبر تک 2 کروڑ 10 لاکھ 69 ہزار 400 روپے اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔