طلال چوہدری کیخلاف شواہد ہیں لیکن اثرورسوخ کےباعث انہیں صرف وارننگ جاری کی گئی،حکام الیکشن کمیشن
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
الیکشن کمیشن میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور این اے 96 فیصل آباد سے رکن بلال بدر کے خلاف ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیس کی سماعت ہوئی، چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے سماعت کی۔
طلال چوہدری کے وکیل نے دلائل دیے اور کہا کہ طلال چوہدری غیر مشروط معافی مانگ چکے ہیں، 20 نومبر کو ڈی ایم او نے وارننگ جاری کی، ڈی ایم او نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہ کرنے کی وارننگ دی، 20 نومبر کو ہی 50 ہزار روپے کا جرمانہ کر دیا گیا۔
وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ڈی ایم او نے قانون کے تحت کارروائی نہیں کی، طلال چوہدری نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں کی۔
چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ آپ کا مطلب کے کہ وزیر جو مرضی کرتا رہے اسے کوئی نہ پوچھے؟
حکام الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائی کا مکمل اختیار رکھتا ہے، طلال چوہدری کے خلاف ویڈیو شواہد موجود ہیں، ڈی ایم او نے وزیر مملکت کو اثر و رسوخ کے باعث صرف وارننگ جاری کی۔
ممبر سندھ نے کہا کہ یہ ثابت کرنا ممکن نہیں کہ اثر و رسوخ استعمال ہوا، الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔
الیکشن کمیشن میں عابد شیر علی کے خلاف فیصل آباد ضمنی انتخاب میں ووٹ کی رازداری کی خلاف ورزی کیس کی بھی سماعت ہوئی، عابد شیر علی الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔
وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ووٹ کی رازداری کی خلاف ورزی پر عابد شیر علی غیر مشروط معافی مانگ رہے ہیں، عابد شیر علی نے ویڈیو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی نہ کروائی۔
عابد شیر علی نے ووٹ کی رازداری کی خلاف ورزی پر غیر مشروط معافی نامہ جمع کروا دیا، الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔
چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ دیکھیں گے کہ معافی نامہ قبول کرنا ہے یا نہیں۔
الیکشن کمیشن میں این اے 4 سوات سے آزاد منتخب رکن سہیل سلطان کی نااہلی کے ریفرنس پر بھی سماعت ہوئی، سہیل سلطان نے الیکشن کمیشن سے دو ہفتے کا وقت دینے کی استدعا کی اور مؤقف اپنایا کہ مجھے وکیل کرنے کیلئے وقت چاہئیے۔
چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ پہلے ہی ہائیکورٹ کے حکم امتناع کے باعث بہت تاخیر ہو چکی ہے، الیکشن کمیشن نے ریفرنس پر مقررہ وقت میں فیصلہ کرنا ہے۔
الیکشن کمیشن نے سہیل سلطان کو وکیل کرنے کیلئے ایک روز کا وقت دے دیا اور
سماعت کل تک ملتوی کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیف الیکشن کمشنر الیکشن کمیشن نے کی خلاف ورزی عابد شیر علی ڈی ایم او نے طلال چوہدری ضابطہ اخلاق
پڑھیں:
لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
لاہور: بلدیاتی الیکشن کے لیے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی. لاہور میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں۔ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر پنجاب نے لاہورکی یونین کونسل کی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کردی.فہرست کےمطابق لاہور کو نو ٹاؤن میں تقسیم کیا گیا جس میں راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسلز قائم کی گئی ہیں۔ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40، صدر کینٹ میں 29 یونین کونسل بنائی گئیں، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونینز بنائی گئیں۔شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائرکرسکتے ہیں. 24 جولائی تک اعتراضات پر فیصلہ سنایا جائےگا. تمام حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10اگست 2026 کو جاری ہوگی۔