افغانستان: طالبان کا نیا حکم نامہ، مشتبہ افراد کی عدالت کے بغیر 10 دن تک حراست پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
افغان طالبان حکومت نے حراست کے قوانین میں سخت تبدیلیاں متعارف کراتے ہوئے مشتبہ افراد کی حراست کی مدت 72 گھنٹوں سے بڑھا کر 10 دن کر دی ہے، جبکہ عدالت کے حکم کے بغیر رہائی کا حق ختم کر دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق نئے فرمان کے تحت قیدیوں کو عدالت کے حکم کے بغیر رہا نہیں کیا جا سکے گا اور تمام حراستی اختیارات افغان سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ سابقہ قوانین کو ختم کرتے ہوئے رہائی کا اختیار صرف طالبان عدالتوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔
قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے گروپوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام بلاجواز گرفتاریوں اور طویل حراست کے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے اور منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اقوام متحدہ بھی 2021 کے بعد طالبان کی متعدد گرفتاریوں کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے، جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پالیسیاں افغانستان کو ایک کھلی جیل میں بدل رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔ ایران 2023ء میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔ وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔