بلوچستان میں بڑا انسدادِ دہشتگردی آپریشن، مرکزی نیٹ ورک بے نقاب، خطرناک اسلحہ برآمد
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات نے کہا ہے کہ گزشتہ سال صوبے بھر میں 730 سے زائد انسداد دہشتگردی آپریشنز کیے گئے اور پورے صوبے میں پولیس کی عملداری قائم ہے۔ پنجگور میں بھی ایک آپریشن کے دوران دہشتگرد ساجد کو گرفتار کیا گیا، جو پنجگور سے تربت اسلحہ منتقل کر رہا تھا۔ اس کے قبضے سے 5 راکٹ، 2 رائفلیں، 20 ہینڈ گرنیڈز اور 23 میگزینز بھی برآمد ہوئیں۔
کوئٹہ میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایات کے بعد تمام سیکیورٹی اور انٹیلیجنس اقدامات مکمل طور پر کوآرڈینیٹڈ انداز میں کیے جا رہے ہیں اور صوبے بھر میں ریسٹرکشنز سے متعلق مسائل ختم کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان میں پہلی بار فیس لیس فورس کو اگلے 2 ماہ میں متعارف کرایا جائے گا۔
مزید پڑھیں:لیویز فورس کو قانونی طور پر بلوچستان پولیس میں ضم کردیا گیا
ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ کے مطابق انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک بڑا مشترکہ آپریشن کیا، جس کے دوران ایک انتہائی مطلوب دہشتگرد کو گرفتار کیا گیا، دہشتگرد اسلام آباد میں تعلیم حاصل کر چکے تھے اور دیگر افراد کا تعلق کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی این پی سے تھا۔ آپریشن اور ریاستی معاملات سے متعلق مکمل رپورٹ فراہم کی جائے گی۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ اسلام آباد اور بہاولپور سے گرفتار دہشتگرد کی شناخت ساجد احمد کے نام سے ہوئی ہے، جس نے اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹرز کیا۔ ملزم کی گاڑی سے 800 راؤنڈز، 20 ہینڈ گرنیڈز، 22 فیوزز، سی فور کی سلیبس، ایس پی کیپیٹ ریکارڈ، ہیلمٹ اور قریباً 30 ڈیٹونیٹر کارڈز برآمد ہوئے۔
ڈی آئی جی کے مطابق ساجد احمد کے بی ایل اے اور دیگر دہشتگرد گروہوں سے روابط تھے۔ اس نے گوگل ارتھ پر تربت سمیت مختلف علاقوں کے راستے اور نیٹ ورک مارک کر رکھے تھے، جبکہ ہائیکورٹ، ایف سی اور دیگر سیکیورٹی اداروں سے متعلق حساس معلومات بھی اس نیٹ ورک میں شامل تھیں۔ نیٹ ورک میں شہری سہولت کاروں کے ساتھ بچوں کو بھی استعمال کیا جا رہا تھا۔
حکام کے مطابق گرفتار دہشتگرد نے بی ایل اے اور بی وائی سی سے مسلسل رابطہ رکھا اور دہشتگرد لٹریچر تحریر کرنے کے ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعے نیٹ ورک چلانے میں مدد کی۔ ملزم کے قبضے سے جدید اسلحہ، نائٹ وژن آلات اور دیگر خصوصی ایکوپمنٹ بھی برآمد کی گئی۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے مزید بتایا کہ بی وائی سی کے تحت مزید 3 افراد سرفراز، جہاں زیب اور بیزن کو گرفتار کیا گیا۔ 18 سالہ سرفراز نے پولیس اور پولیو ڈیوٹی کی نگرانی کی کوشش کی، جبکہ جہاں زیب نے اس کی تربیت کی۔ جہاں زیب نے بساق اسٹڈی سرکل کے ذریعے فنڈز، ادویات اور دیگر سہولتیں فراہم کیں۔ کارروائی کے دوران بیزن کا بھائی ایف سی کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوا۔
مزید پڑھیں:بلوچستان ضلعی انتظامیہ کو پولیس اختیارات دینے کا تنازعہ، حکومت سنبھال سکے گی؟
انہوں نے بتایا کہ نیٹ ورک کے تحت بچوں کو اسکولوں، کالجوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے تیار کیا جا رہا تھا، انہیں پیسے اور ٹرانسپورٹ بھی فراہم کی جاتی تھی۔ گرفتار ملزمان بچوں کو چھوٹے کاموں میں لگا کر آہستہ آہستہ نیٹ ورک کا حصہ بناتے رہے۔ تاہم اب بچوں کی نفسیاتی بحالی اور والدین سے رابطے کے ذریعے انہیں ذمہ دار شہری بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ کے مطابق تمام کارروائیاں قانون کے مطابق اور مکمل انٹیلیجنس کوآرڈینیشن کے ساتھ کی گئیں، جبکہ مزید گرفتاریاں اور تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انسدادِ دہشتگردی آپریشن بلوچستان حمزہ شفقات خطرناک اسلحہ برآمد نیٹ ورک بے نقاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انسداد دہشتگردی آپریشن بلوچستان حمزہ شفقات خطرناک اسلحہ برآمد نیٹ ورک بے نقاب کے ذریعے کے مطابق اور دیگر نیٹ ورک کے ساتھ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔