data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ بھارت خطے اور عالمی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی میں ملوث رہا ہے ۔ پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات درحقیقت اس کے اپنے امن دشمن اقدامات سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بھارتی وزیر خارجہ کے حالیہ بیانات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو دوسروں کو وعظ دینے کے بجائے اپنے طرزِ عمل پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

ترجمان نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جے ایف 17 طیاروں کے ممکنہ معاہدے سے متعلق سوال پر وضاحت کی کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاع سمیت مختلف شعبوں میں وسیع اور مضبوط تعلقات موجود ہیں، تاہم جے ایف 17 سے متعلق کسی مخصوص معاہدے کا علم نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مستقبل میں اس حوالے سے کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو بروقت آگاہ کیا جائے گا۔

دفتر خارجہ کی بریفنگ میں جموں و کشمیر کی صورتحال پر بھی تفصیلی بات کی گئی۔ طاہر اندرابی نے بتایا کہ 5 جنوری کو کشمیری عوام نے حق خودارادیت کا دن منایا ۔ بھارت مسلسل کشمیری قیادت کو خاموش کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ہزاروں کشمیری سیاسی رہنما بھارتی جیلوں میں قید ہیں ۔ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے کیے گئے یکطرفہ اقدامات آج بھی کشمیری عوام کے لیے ایک کربناک حقیقت ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کے لیے سیاسی اور سماجی حمایت جاری رکھے گا اور عالمی فورمز پر ان کی آواز بلند کرتا رہے گا۔

ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حال ہی میں چین کا دورہ کیا اور پاک چین وزرائے خارجہ کے اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں شرکت کی، جس کے بعد مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔

طاہر اندرابی نے دہلی میں فیض الٰہی مسجد اور ملحقہ جائیدادوں کے انہدام کو بھارت کی مسلم دشمن پالیسی کا حصہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں 1992 میں بابری مسجد کے انہدام اور بعد ازاں مندر کی تعمیر کے تسلسل کی کڑی ہیں، جو ہندوتوا نظریے کے تحت اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز مہم کی عکاسی کرتی ہیں۔

دفتر خارجہ نے ایران کے معاملات میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کی مخالفت کا اعادہ کیا اور صومالی لینڈ سے متعلق پاکستان کے واضح مؤقف کو دہرایا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے مختلف عالمی فورمز پر صومالی لینڈ کو غیر قانونی ریاست تسلیم کرنے کی مخالفت کی ہے کیونکہ یہ برادر ملک صومالیہ کو تقسیم کرنے کی سازش ہے۔

افغانستان سے متعلق بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان مخاصمانہ تعلقات نہیں چاہتا، تاہم اس کا مطالبہ سادہ اور واضح ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ پاکستان صرف قابل تصدیق اور تحریری ضمانتیں چاہتا ہے ۔ افغان طالبان کو دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان، چین اور افغانستان کے درمیان سہ فریقی میکنزم مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جو خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دفتر خارجہ کہ پاکستان کے لیے

پڑھیں:

امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار