وزیراعلیٰ سندھ نے ریلوے منصوبوں کیلئے 6.6 ارب روپے دینے کی منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سندھ حکومت نے صوبے میں ریلوے منصوبوں کے لیے 6 ارب 60 کروڑ روپے فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
اس حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں سندھ میں 858 کلو میٹر طویل ریلوے نیٹ ورک کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ملاقات کے دوران مجموعی طور پر 63 ارب 26 کروڑ روپے کی لاگت سے ریلوے انفرا اسٹرکچر کی بحالی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے تعاون سے سندھ کے عوام کے لیے جدید ریلوے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں اور صوبائی حکومت چھ نئی جدید ٹرینیں خریدنے پر بھی غور کر رہی ہے۔ ان منصوبوں سے صوبے کی تقریباً 67 فیصد آبادی کو فائدہ پہنچے گا۔
اجلاس میں کوٹری تا دادو، دادو تا لاڑکانہ، حیدرآباد تا میرپورخاص، روہڑی تا جیکب آباد، حیدرآباد تا بدین سمیت چھ اہم ریلوے روٹس کی بحالی پر بھی اتفاق کیا گیا۔ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے بتایا کہ روہڑی اسٹیشن کی عالمی معیار کے مطابق تزئین و آرائش کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ وزارت ریلوے چھ جدید ٹرینوں سے متعلق تمام تفصیلات سندھ حکومت کو فراہم کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔