ملازمین کے لیے ہر ہفتے 3 ہزار ڈالر کا لنچ فراہم کرنے والا انوکھا سی ای او
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جب سوشل میڈیا پر کسی مثبت عمل کی بازگشت سنائی دیتی ہے تو وہ محض ایک پوسٹ نہیں رہتی بلکہ معاشرتی رویّوں پر اثر انداز ہونے والی ایک مثال بن جاتی ہے۔
حالیہ دنوں میں لاس اینجلس سے تعلق رکھنے والے نوجوان سی ای او جون ہو کی ایک سادہ مگر بامعنی پوسٹ نے دنیا بھر میں دفاتر کے ماحول اور ورک کلچر پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں انسانی قدروں کو کامیابی کی اصل بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جون ہو ہر ہفتے تقریباً تین ہزار ڈالر خرچ کر کے اپنی 30 رکنی ٹیم کے لیے مشترکہ لنچ کا اہتمام کرتے ہیں، ان کے نزدیک یہ کوئی اضافی خرچ نہیں بلکہ وہ سرمایہ کاری ہے جس کا فائدہ صرف کمپنی نہیں بلکہ پورا نظام اٹھاتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک مطمئن اور خوشحال ٹیم ہی مسلسل بہتر نتائج دے سکتی ہے۔
انسٹاگرام پر وائرل ہونے والی اپنی پوسٹ میں جون ہو نے دوٹوک انداز میں لکھا کہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ اعلیٰ کارکردگی دکھانے والی ٹیمیں وہی ہوتی ہیں جو خود کو اچھا محسوس کرتی ہیں، کارکردگی دباؤ، خوف یا سخت قوانین سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ ایسے ماحول سے جنم لیتی ہے جہاں لوگوں کو احترام، اعتماد اور سکون میسر ہو، اور ساتھ ہی وہ اپنے کام کی مکمل اہلیت بھی رکھتے ہوں۔
جون ہو کا کہنا ہے کہ کسی ادارے کی ثقافت شاندار دفاتر، مہنگی سہولتوں یا نمائشی مراعات سے نہیں بنتی بلکہ اس فضا سے تشکیل پاتی ہے جہاں باصلاحیت افراد کو آزادی دی جائے، ان کی بات سنی جائے اور انہیں یہ احساس ہو کہ ان کی موجودگی واقعی اہم ہے۔ ٹیم کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا، وقت گزارنا اور غیر رسمی گفتگو اسی سوچ کا عملی اظہار ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جو رقم وہ اپنی ٹیم پر خرچ کرتے ہیں، وہ دراصل ان لوگوں پر سرمایہ کاری ہے جو کمپنی کی کامیابی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان کی جانب سے شیئر کی گئی تصاویر میں خوشگوار ماحول، مسکراتے چہرے اور باہمی تعلق کا وہ منظر دکھائی دیتا ہے جو محض دعووں کے بجائے عملی مثال پیش کرتا ہے۔
سوشل میڈیا پر اس سوچ کو غیر معمولی پذیرائی ملی۔ صارفین کی بڑی تعداد نے جون ہو کے اقدام کو موجودہ کارپوریٹ کلچر کے لیے ایک سبق قرار دیا۔ کئی افراد نے تبصرہ کیا کہ جو لوگ اس عمل کا فوری فائدہ یا واپسی کا حساب مانگتے ہیں، وہ دراصل اس سوچ کی گہرائی کو سمجھ ہی نہیں پاتے۔ ان کے مطابق یہ پیغام زیادہ سے زیادہ اداروں تک پہنچنا چاہیے۔
ایک سابق مینیجر نے لکھا کہ ملازمین کے ساتھ غیر رسمی انداز میں بیٹھ کر بات چیت کرنا ان کی پیشہ ورانہ زندگی کی بہترین سرمایہ کاری ثابت ہوئی، کیونکہ جب ٹیم کو قدر دی جاتی ہے تو ادارے خود بخود مضبوط ہو جاتے ہیں
۔ ایک اور صارف نے اپنے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 80 افراد کی ٹیم کی قیادت کے دوران غیر رسمی گفتگو اور وقت دینا سب سے مؤثر فیصلہ تھا، کیونکہ ٹیم کے بغیر کوئی بھی لیڈر کچھ نہیں ہوتا۔
جون ہو کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی بھی ان کی سوچ کی عکاس ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا سے تعلیم حاصل کی، بعدازاں اسٹینفورڈ گریجویٹ اسکول آف بزنس سے اعلیٰ تعلیم مکمل کی، کیریئر کے آغاز میں انہوں نے گولڈمین سیچ میں انویسٹمنٹ بینکنگ اینالسٹ کے طور پر خدمات انجام دیں اور 2021 میں اپنی کمپنی کی بنیاد رکھی، جہاں وہ اس وقت سی ای او کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
جون ہو کی اس پوسٹ نے ایک بار پھر یہ حقیقت اجاگر کر دی ہے کہ کامیاب ادارے عمارتوں، پالیسیوں یا بجٹ سے نہیں بلکہ انسانوں سے بنتے ہیں۔ جب ملازمین خود کو سنا ہوا، اہم اور قابلِ قدر محسوس کرتے ہیں تو وہ ادارے کو بھی اسی جذبے کے ساتھ کامیابی کی نئی بلندیوں تک لے جاتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جون ہو
پڑھیں:
ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) ماہرینِ صحت نے دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عادت نہ صرف متوازن غذا کی جانب اہم قدم ہے بلکہ بھوک پر قابو پانے، توانائی برقرار رکھنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مقصد صرف تیزی سے وزن کم کرنا نہیں بلکہ ایسی پائیدار غذائی عادات اپنانا ہے جن پر طویل عرصے تک آسانی سے عمل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دوپہر کے کھانے میں متوازن سلاد شامل کرنے سے جسم کو فائبر، وٹامنز، منرلز اور دیگر ضروری غذائی اجزا بیک وقت حاصل ہوتے ہیں، جو بہتر صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک مکمل اور متوازن سلاد صرف سبز پتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں ثابت مونگ دال، چنے، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، گاجر، شملہ مرچ، کینوا، ایووکاڈو، مالٹے کے قتلے، انار کے دانے اور کچے آم جیسے غذائیت سے بھرپور اجزا بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔(جاری ہے)
ذائقے کے لیے نمک، کالی مرچ، لیموں کا رس یا سرکہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ پروٹین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گرل کیا ہوا پنیر، سویا یا دیگر صحت بخش پروٹین ذرائع شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ماہرین نے کہا کہ اگر ایک ہی قسم کا سلاد روزانہ کھایا جائے تو وقت کے ساتھ اکتاہٹ پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے مختلف سبزیوں، پھلوں اور دیگر اجزا میں تبدیلی کرتے رہنا چاہیے تاکہ ذائقے کے ساتھ غذائی تنوع بھی برقرار رہے۔طبی ماہرین کے مطابق دوپہر کے کھانے میں سلاد شامل کرنے سے زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس رہتا ہے، غیر ضروری اسنیکس اور بار بار کھانے کی خواہش میں کمی آتی ہے، جبکہ دوپہر کے کھانے کے بعد محسوس ہونے والی سستی بھی کم ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں روزمرہ سرگرمیوں کے لیے جسمانی توانائی اور چستی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وزن میں کمی کا عمل ہر فرد میں مختلف ہو سکتا ہے، تاہم متوازن غذا کو مستقل معمول بنانے سے جسمانی ساخت میں مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں، کپڑوں کی فٹنگ بہتر محسوس ہو سکتی ہے اور مجموعی صحت میں بتدریج بہتری آتی ہے۔ماہرین نے کہا کہ صحت بخش غذائی عادات نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں اور انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مطلب پسندیدہ کھانوں سے مکمل پرہیز نہیں بلکہ اعتدال، توازن اور مستقل مزاجی کے ساتھ غذائیت سے بھرپور خوراک کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا ہے۔