data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جب سوشل میڈیا پر کسی مثبت عمل کی بازگشت سنائی دیتی ہے تو وہ محض ایک پوسٹ نہیں رہتی بلکہ معاشرتی رویّوں پر اثر انداز ہونے والی ایک مثال بن جاتی ہے۔

حالیہ دنوں میں لاس اینجلس سے تعلق رکھنے والے نوجوان سی ای او جون ہو کی ایک سادہ مگر بامعنی پوسٹ نے دنیا بھر میں دفاتر کے ماحول اور ورک کلچر پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں انسانی قدروں کو کامیابی کی اصل بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جون ہو ہر ہفتے تقریباً تین ہزار ڈالر خرچ کر کے اپنی 30 رکنی ٹیم کے لیے مشترکہ لنچ کا اہتمام کرتے ہیں، ان کے نزدیک یہ کوئی اضافی خرچ نہیں بلکہ وہ سرمایہ کاری ہے جس کا فائدہ صرف کمپنی نہیں بلکہ پورا نظام اٹھاتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک مطمئن اور خوشحال ٹیم ہی مسلسل بہتر نتائج دے سکتی ہے۔

انسٹاگرام پر وائرل ہونے والی اپنی پوسٹ میں جون ہو نے دوٹوک انداز میں لکھا کہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ اعلیٰ کارکردگی دکھانے والی ٹیمیں وہی ہوتی ہیں جو خود کو اچھا محسوس کرتی ہیں، کارکردگی دباؤ، خوف یا سخت قوانین سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ ایسے ماحول سے جنم لیتی ہے جہاں لوگوں کو احترام، اعتماد اور سکون میسر ہو، اور ساتھ ہی وہ اپنے کام کی مکمل اہلیت بھی رکھتے ہوں۔

جون ہو کا کہنا ہے کہ کسی ادارے کی ثقافت شاندار دفاتر، مہنگی سہولتوں یا نمائشی مراعات سے نہیں بنتی بلکہ اس فضا سے تشکیل پاتی ہے جہاں باصلاحیت افراد کو آزادی دی جائے، ان کی بات سنی جائے اور انہیں یہ احساس ہو کہ ان کی موجودگی واقعی اہم ہے۔ ٹیم کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا، وقت گزارنا اور غیر رسمی گفتگو اسی سوچ کا عملی اظہار ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جو رقم وہ اپنی ٹیم پر خرچ کرتے ہیں، وہ دراصل ان لوگوں پر سرمایہ کاری ہے جو کمپنی کی کامیابی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان کی جانب سے شیئر کی گئی تصاویر میں خوشگوار ماحول، مسکراتے چہرے اور باہمی تعلق کا وہ منظر دکھائی دیتا ہے جو محض دعووں کے بجائے عملی مثال پیش کرتا ہے۔

سوشل میڈیا پر اس سوچ کو غیر معمولی پذیرائی ملی۔ صارفین کی بڑی تعداد نے جون ہو کے اقدام کو موجودہ کارپوریٹ کلچر کے لیے ایک سبق قرار دیا۔ کئی افراد نے تبصرہ کیا کہ جو لوگ اس عمل کا فوری فائدہ یا واپسی کا حساب مانگتے ہیں، وہ دراصل اس سوچ کی گہرائی کو سمجھ ہی نہیں پاتے۔ ان کے مطابق یہ پیغام زیادہ سے زیادہ اداروں تک پہنچنا چاہیے۔

ایک سابق مینیجر نے لکھا کہ ملازمین کے ساتھ غیر رسمی انداز میں بیٹھ کر بات چیت کرنا ان کی پیشہ ورانہ زندگی کی بہترین سرمایہ کاری ثابت ہوئی، کیونکہ جب ٹیم کو قدر دی جاتی ہے تو ادارے خود بخود مضبوط ہو جاتے ہیں

۔ ایک اور صارف نے اپنے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 80 افراد کی ٹیم کی قیادت کے دوران غیر رسمی گفتگو اور وقت دینا سب سے مؤثر فیصلہ تھا، کیونکہ ٹیم کے بغیر کوئی بھی لیڈر کچھ نہیں ہوتا۔

جون ہو کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی بھی ان کی سوچ کی عکاس ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا سے تعلیم حاصل کی، بعدازاں اسٹینفورڈ گریجویٹ اسکول آف بزنس سے اعلیٰ تعلیم مکمل کی، کیریئر کے آغاز میں انہوں نے گولڈمین سیچ میں انویسٹمنٹ بینکنگ اینالسٹ کے طور پر خدمات انجام دیں اور 2021 میں اپنی کمپنی کی بنیاد رکھی، جہاں وہ اس وقت سی ای او کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

جون ہو کی اس پوسٹ نے ایک بار پھر یہ حقیقت اجاگر کر دی ہے کہ کامیاب ادارے عمارتوں، پالیسیوں یا بجٹ سے نہیں بلکہ انسانوں سے بنتے ہیں۔ جب ملازمین خود کو سنا ہوا، اہم اور قابلِ قدر محسوس کرتے ہیں تو وہ ادارے کو بھی اسی جذبے کے ساتھ کامیابی کی نئی بلندیوں تک لے جاتے ہیں۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جون ہو

پڑھیں:

فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد

فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔

اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔

60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔

فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔

اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔

دوسری جانب  52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ