2025ء میں کتنے لاکھ پاکستانی بیرون ملک ملازمت کیلئے چلے گئے؟ ڈیٹا سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
فوٹو: فائل
سال 2025ء میں کتنے لاکھ پاکستانی بیرون ملک ملازمت کے لیے گئے؟ بیورو آف امیگریشن نے ڈیٹا جاری کردیا۔
دستاویز کے مطابق سال 2025ء میں 7 لاکھ 62 ہزار 499 پاکستانی بیرون ملک ملازمت کے لیے گئے جبکہ سال 2024 میں7 لاکھ 27 ہزار381 پاکستانی بیرون ملک گئے تھے۔
بیورو آف امیگریشن کی دستاویز کے مطابق سال 2025ء میں5 ہزار 659 اکاؤنٹنٹ اور 10 ہزار 503 باورچی پاکستان سے باہر گئے۔
دستاویز کے مطابق 3 ہزار 795 ڈاکٹر، 5 ہزار 946 انجینئرز، 1 ہزار 640 نرسز اور 1 ہزار 725 اساتذہ بیرون ملک ملازمت کے لیے چلے گئے۔
بیورو کی دستاویز کے مطابق 2025ء میں 1 لاکھ 63 ہزار 718 ڈرائیور، 6 ہزار 475 الیکٹریشنز، 4 لاکھ 65 ہزار 138 مزدور اور 5 ہزار 700 مستری بیرون ملک گئے ہیں۔
دستاویز کے مطابق 12 ہزار 703 ٹیکنیشنز، 11 ہزار 777 منیجرز، 2 ہزار 306 پلمبر، 2 ہزار 27 ویٹرز، 18 ہزار 352 اعلی تعلیم یافتہ، 13 ہزار 657 انتہائی ہنر مند، 2 لاکھ 22 ہزار171 ہنر مند افراد، 42 ہزار 257 نیم ہنر مند، 4 لاکھ 66 ہزار62 غیر ہنر مند افراد بیرون ملک گئے۔
بیورو کی دستاویز کے مطابق 5 لاکھ 30 ہزار 256 پاکستانی سعودی عرب، 52 ہزار 664 افراد یو اے ای، 68 ہزار 376 پاکستانی قطر، 37 ہزار 726 بحرین، 6 ہزار 590 کویت، 39 جنوبی کوریا،1 ہزار 5 امریکا اور 4 ہزار 355 پاکستانی ملازمت کے لیے برطانیہ گئے۔
بیورو کی دستاویز کے مطابق 984 افراد جرمنی، 813 اٹلی، 2 ہزار 230 چین، 2 ہزار 210 جاپان اور 1 ہزار 109 پاکستانی ملازمت کےلیے رومانیہ گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کی دستاویز کے مطابق پاکستانی بیرون ملک بیرون ملک ملازمت ملازمت کے لیے
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں