جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فارمولا چلے گا!
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
جاوید محمود
۔۔۔۔
امریکہ سے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال 15اکتوبر کو نیویارک ٹائمز کی جانب سے ابتدائی طور پر شائع ہونے والی معلومات کی تصدیق کی جس میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ انہوں نے سی ائی اے کو وینزویلا کے اندر خفیہ کارروائیاں کرنے کا اختیار دیا تھا ۔اس بیان کے منظر عام پر آنے سے اس دور کی یادیں تازہ ہو گئیں ہیں کہ جب واشنگٹن نے خفیہ کارروائیوں کے ذریعے لاطینی امریکہ کی تقدیر کو بدلنے کی کوشش کی تھی۔ 1947میں اپنے قیام کے بعد سے امریکی قومی سلامتی سے متعلق دنیا بھر سے معلومات جمع کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کے علاوہ سی آئی اے نے دوسرے ممالک میں خفیہ کارروائیاں بھی کی ہیں جنہوں نے تاریخ پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ سرد جنگ کے دور میں سی آئی اے نے سوشلزم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت محنت کی اور ایسے سیاسی نظام کے قیام کو ناکام بنانے کے لیے بھرپور کوشش کی جو اس وقت سابقہ سویت یونین میں قائم حکومت سے مماثلت رکھتا تھا۔ 2019میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نکولس مادورو کی حکومت پر دباؤ بڑھانے کی غرض سے وینزویلا کی تیل کی صنعت پر پابندیاں عائد کیں تو اس ملک کے خام تیل کی برآمدات گھٹ کر تقریبا چار لاکھ 95 ہزار بیرل یومیہ رہ گئی تھیں۔ اگرچہ چھ سال بعد بھی یہ پابندیاں جوں کی توں برقرارتھیں مگر اس دورانیے میں وینز ویلا کی تیل کی فروخت ڈرامائی طور پر بڑھ کر تقریبا 10 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئی تھی۔ تیل کی فروخت کی یہ مقدار اس ملک کے لیے اب بھی بہت کم تھی کیونکہ 1998 میں ہیوگو شاویز کے اقتدار میں آنے سے قبل لگ بھگ 30لاکھ بیرل یومیہ پیدا کرتا تھا لیکن پابندیوں کے باوجود اتنی مقدار میں تیل فروخت کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ گزشتہ چھ سال سے عائد پابندیاں وہ نتائج نہیں دے پا رہی جن کی توقع کی گئی تھی۔ وینزویلا کی مادور حکومت امریکی پابندیوں سے بچتے ہوئے تیل کی پیداوار بحال کرنے اور خام تیل کی فروخت کے لیے نئے راستے تلاش کرنے میں مصروف تھی اور اس تناظر میں ایک خفیہ گھوسٹ فلیٹ تیل کی ترسیل کرنے والا گمنام بیڑا مرکزی کردار ادا کر رہا تھا ۔یہ بیڑا دراصل ایسے تیل بردار جہازوں کا نیٹ ورک تھا جو مختلف حربے اپنا کر اپنی نقل و حمل چھپاتا تھا اوراس تیل کی ترسیل کرتا تھا جس پر امریکی پابندیاں تھیں ۔ امریکی حکومت نے گزشتہ سال میں بہت سے تیل بردار جہازوں کی نشاندہی کی یا انہیں قبضے میں لیا جو وینز ویلا کا تیل اسمگل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ٹرمپ یہ بھی الزام عائد کرتے ہیں کہ وینزویلا کی اقتصادی بحران اور حکومتی مظالم کی وجہ سے لاکھوں لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں جن میں سے سینکڑوں ہزاروں افراد امریکی سرحد پر پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے مادورو پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے جیلیں اور پاگل خانے خالی کر دیے ہیں اور اپنے قیدیوں اور پناہ کے خواہشمندوں کو مجبوراً امریکہ ہجرت کرنے پر مجبور کیا ۔خیال رہے ٹرمپ کے یہ دعوے متنازع ہیں اور انہوں نے اس کے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے۔
نکولس مادورو نے بائیں بازو کے صدر ہیو گیوشاویزاور ان کی جماعت یونائیٹڈ سوشلسٹ پارٹی آف وینز ویلا دور میں سیاسی اہمیت حاصل کی ۔2013 میں وہ شاویز کے بعد وینز ویلا کے صدر بنے، 2024 میں مادورو کو صدارتی انتخابات کا فاتح قرار دیا گیا تاہم اپوزیشن کی جانب سے جمع کیے گئے ووٹنگ نتائج کے مطابق ان کے امیدوار واضح اکثریت سے جیت گئے تھے ۔امریکہ میں وینزویلا کے سینکڑوں ہزار مہاجرین کی آمد اور امریکہ میں منشیات خصوصا ًفینٹانائل اور کوکین کی اسمگلنگ کے خلاف وائٹ ہاؤس کی مہم کے حوالے سے مادور و اور ٹرمپ کے درمیان شدید اختلافات رہے ہیں۔ ٹرمپ نے وینز ویلا کے دو منشیات فروش گروپوں ٹرین دے آرگو اور کاٹل دے لوس کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ دوسرے گروہ کی قیادت خود مادورو کر رہے ہیں۔ مادور و حکومت کے لیے تیل غیر ملکی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور اس شعبے سے حاصل ہونے والا منافع حکومت کے بجٹ کا آدھے سے زیادہ حصہ پورا کرتا ہے۔ فی الحال وینزویلا روزانہ تقریبا ًدو لاکھ بیرل تیل برآمد کر رہا ہے، جس کا چین سب سے بڑا خریدار ہے۔ اگرچہ امریکی جائزے کے مطابق وینز ویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تصدیق شدہ خام تیل کے ذخائر ہیں لیکن یہ ان سے نسبتاً کم فائدہ اٹھا رہا ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 2023میں وینزویلا نے عالمی خام تیل کی پیداوار کا صرف0.
٭٭٭
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: وینزویلا کی وینز ویلا انہوں نے کے مطابق خام تیل ویلا کی کرنے کی ٹرمپ کے ویلا کے رہے ہیں ہے اور ہیں کہ تیل کی اور ان کے لیے اور اس
پڑھیں:
امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان
امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔
’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔
اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔
مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں
امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔
دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔
مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔
امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔
یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘
1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔
تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو