Juraat:
2026-07-24@09:31:23 GMT

جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فارمولا چلے گا!

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فارمولا چلے گا!

جاوید محمود
۔۔۔۔
امریکہ سے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال 15اکتوبر کو نیویارک ٹائمز کی جانب سے ابتدائی طور پر شائع ہونے والی معلومات کی تصدیق کی جس میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ انہوں نے سی ائی اے کو وینزویلا کے اندر خفیہ کارروائیاں کرنے کا اختیار دیا تھا ۔اس بیان کے منظر عام پر آنے سے اس دور کی یادیں تازہ ہو گئیں ہیں کہ جب واشنگٹن نے خفیہ کارروائیوں کے ذریعے لاطینی امریکہ کی تقدیر کو بدلنے کی کوشش کی تھی۔ 1947میں اپنے قیام کے بعد سے امریکی قومی سلامتی سے متعلق دنیا بھر سے معلومات جمع کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کے علاوہ سی آئی اے نے دوسرے ممالک میں خفیہ کارروائیاں بھی کی ہیں جنہوں نے تاریخ پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ سرد جنگ کے دور میں سی آئی اے نے سوشلزم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت محنت کی اور ایسے سیاسی نظام کے قیام کو ناکام بنانے کے لیے بھرپور کوشش کی جو اس وقت سابقہ سویت یونین میں قائم حکومت سے مماثلت رکھتا تھا۔ 2019میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نکولس مادورو کی حکومت پر دباؤ بڑھانے کی غرض سے وینزویلا کی تیل کی صنعت پر پابندیاں عائد کیں تو اس ملک کے خام تیل کی برآمدات گھٹ کر تقریبا چار لاکھ 95 ہزار بیرل یومیہ رہ گئی تھیں۔ اگرچہ چھ سال بعد بھی یہ پابندیاں جوں کی توں برقرارتھیں مگر اس دورانیے میں وینز ویلا کی تیل کی فروخت ڈرامائی طور پر بڑھ کر تقریبا 10 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئی تھی۔ تیل کی فروخت کی یہ مقدار اس ملک کے لیے اب بھی بہت کم تھی کیونکہ 1998 میں ہیوگو شاویز کے اقتدار میں آنے سے قبل لگ بھگ 30لاکھ بیرل یومیہ پیدا کرتا تھا لیکن پابندیوں کے باوجود اتنی مقدار میں تیل فروخت کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ گزشتہ چھ سال سے عائد پابندیاں وہ نتائج نہیں دے پا رہی جن کی توقع کی گئی تھی۔ وینزویلا کی مادور حکومت امریکی پابندیوں سے بچتے ہوئے تیل کی پیداوار بحال کرنے اور خام تیل کی فروخت کے لیے نئے راستے تلاش کرنے میں مصروف تھی اور اس تناظر میں ایک خفیہ گھوسٹ فلیٹ تیل کی ترسیل کرنے والا گمنام بیڑا مرکزی کردار ادا کر رہا تھا ۔یہ بیڑا دراصل ایسے تیل بردار جہازوں کا نیٹ ورک تھا جو مختلف حربے اپنا کر اپنی نقل و حمل چھپاتا تھا اوراس تیل کی ترسیل کرتا تھا جس پر امریکی پابندیاں تھیں ۔ امریکی حکومت نے گزشتہ سال میں بہت سے تیل بردار جہازوں کی نشاندہی کی یا انہیں قبضے میں لیا جو وینز ویلا کا تیل اسمگل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ٹرمپ یہ بھی الزام عائد کرتے ہیں کہ وینزویلا کی اقتصادی بحران اور حکومتی مظالم کی وجہ سے لاکھوں لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں جن میں سے سینکڑوں ہزاروں افراد امریکی سرحد پر پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے مادورو پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے جیلیں اور پاگل خانے خالی کر دیے ہیں اور اپنے قیدیوں اور پناہ کے خواہشمندوں کو مجبوراً امریکہ ہجرت کرنے پر مجبور کیا ۔خیال رہے ٹرمپ کے یہ دعوے متنازع ہیں اور انہوں نے اس کے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے۔
نکولس مادورو نے بائیں بازو کے صدر ہیو گیوشاویزاور ان کی جماعت یونائیٹڈ سوشلسٹ پارٹی آف وینز ویلا دور میں سیاسی اہمیت حاصل کی ۔2013 میں وہ شاویز کے بعد وینز ویلا کے صدر بنے، 2024 میں مادورو کو صدارتی انتخابات کا فاتح قرار دیا گیا تاہم اپوزیشن کی جانب سے جمع کیے گئے ووٹنگ نتائج کے مطابق ان کے امیدوار واضح اکثریت سے جیت گئے تھے ۔امریکہ میں وینزویلا کے سینکڑوں ہزار مہاجرین کی آمد اور امریکہ میں منشیات خصوصا ًفینٹانائل اور کوکین کی اسمگلنگ کے خلاف وائٹ ہاؤس کی مہم کے حوالے سے مادور و اور ٹرمپ کے درمیان شدید اختلافات رہے ہیں۔ ٹرمپ نے وینز ویلا کے دو منشیات فروش گروپوں ٹرین دے آرگو اور کاٹل دے لوس کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ دوسرے گروہ کی قیادت خود مادورو کر رہے ہیں۔ مادور و حکومت کے لیے تیل غیر ملکی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور اس شعبے سے حاصل ہونے والا منافع حکومت کے بجٹ کا آدھے سے زیادہ حصہ پورا کرتا ہے۔ فی الحال وینزویلا روزانہ تقریبا ًدو لاکھ بیرل تیل برآمد کر رہا ہے، جس کا چین سب سے بڑا خریدار ہے۔ اگرچہ امریکی جائزے کے مطابق وینز ویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تصدیق شدہ خام تیل کے ذخائر ہیں لیکن یہ ان سے نسبتاً کم فائدہ اٹھا رہا ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 2023میں وینزویلا نے عالمی خام تیل کی پیداوار کا صرف0.

8فیصد پیدا کیا جس کی وجہ تیکنیکی اور بجٹ سے متعلق چیلنجز ہیں۔ پہلا ٹینکر ضبط کرنے کے اعلان کے بعد ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا میرا خیال ہے ہم یہ تیل رکھ لیں گے۔ اس سے قبل امریکہ نے وینزویلا کے ان الزامات کو مسترد کیا تھا کہ مادور و حکومت کے خلاف اقدامات کا مقصد ملک کے ایسے غیر استعمال شدہ تیل کے ذخائر تک رسائی حاصل کرنا ہے ۔صدر ٹرمپ کی وینز ویلا میں مداخلت نے ان کے عالمی عزائم پر توجہ مبدول کروائی ہے۔ اب اس معاملے میں کوئی راز باقی نہیں رہا کہ ٹرمپ دوسرے ممالک کی معدنی دولت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وہ پہلے ہی فوجی امداد کے بدلے یوکرین کے قدرتی وسائل سے منافع حاصل کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔ ٹرمپ وینزویلاکے معدنی ذخائر کو کنٹرول کرنے کی اپنی خواہش کو بھی نہیں چھپا رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وینزویلا میں ان کی صنعت کو سرکاری تحویل میں لیا گیا تو امریکی تیل کمپنیوں کو لوٹا گیا تھا۔ ٹرمپ کے عزائم کو دیکھتے ہوئے گرین لینڈ اور ڈنمارک میں بھی خوف کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں کہ وہ اب جنوب کے ساتھ ساتھ شمال پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں ۔مادورو آپریشن اس خیال کے لیے بھی ایک اور سنگین دھچکا ہے کہ دنیا کو چلانے کا بہترین طریقہ بین الاقوامی قانون کے مطابق طے شدہ اصولوں پر عمل کرنا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے ساتھ ہی اس خیال کو دھچکا لگا تھا ۔صدرٹرمپ کئی موقع پر یہ کہہ چکے تھے کہ وہ ایسے قوانین کو نظر انداز کر سکتے ہیں جنہیں وہ ناپسند کرتے ہیں۔ امریکہ کے یورپی اتحادی بھی انہیں ناراض کرنے کے موڈ میں نظر نہیں آتے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹرامر اور یورپی رہنما جانتے بوچھتے بھی اس اقدام کی مذمت سے گریز کر رہے ہیں کہ یہ آپریشن اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے جبکہ چین نے امریکی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی تسلط پسندانہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون اور وینزویلا کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے اور اس سے لاطینی امریکہ کی سیکیورٹی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ امریکی کارروائی کی مذمت کے باوجود یہ امریکی اقدام چین کو بھی ایک راستہ دکھاتا ہے ۔چین تائیوان کو اپنا صوبہ قرار دیتا ہے اور اسے خود میں ضم کرنے کو اپنی قومی سلامتی کا اہم جزوقرار دیتا ہے۔ اگر امریکہ غیر ملکی رہنماؤں پر حملہ کر نے اور انہیں پکڑنے کے لیے فوجی طاقت استعمال کرتا ہے تو چین بھی تائیوان کی قیادت پر اسی اختیار کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ یہ روسی صدر کو یوکرینی صدر کو اغوا کرنے کی ترغیب بھی دے سکتا ہے۔ ایک بار جب اس لائن کو عبور کر لیں گے تو پھرہر ملک عالمی قوانین کی اپنے طور پر تشریح کرے گا اور پھرجس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فارمولا چلے گا۔
٭٭٭

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: وینزویلا کی وینز ویلا انہوں نے کے مطابق خام تیل ویلا کی کرنے کی ٹرمپ کے ویلا کے رہے ہیں ہے اور ہیں کہ تیل کی اور ان کے لیے اور اس

پڑھیں:

ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔

عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔

Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.

Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.

— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل