شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں: ایران کی صورتحال پر پاکستان کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
اسلام آباد: پاکستان نے خطے میں بگڑتی ہوئی سیکورٹی صورتحال کے تناظر میں اپنے شہریوں کے لیے ایران سے متعلق نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کر دی ہے، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ حالات بہتر ہونے تک اسلامی جمہوریہ ایران کا غیر ضروری سفر نہ کیا جائے۔
نجی ٹی وی کے مطابق وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہ ہدایات شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے دی جا رہی ہیں، تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔
حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور داخلی حالات کے باعث مختلف ممالک اپنی سفری پالیسیاں سخت کر رہے ہیں، جس کا اثر خطے کے مجموعی امن و استحکام پر بھی پڑ رہا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق ایران میں مقیم پاکستانی شہریوں کو خصوصی طور پر محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہاں موجود پاکستانی شہری اپنی روزمرہ سرگرمیوں کے دوران غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور حالات پر گہری نظر رکھیں۔
وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردِعمل اور مدد کو یقینی بنانے کے لیے پاکستانی سفارتی مشنز سے مسلسل رابطہ انتہائی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں تہران میں موجود پاکستانی سفارت خانہ اور دیگر قونصل خانے شہریوں کی معاونت کے لیے متحرک ہیں۔
ٹریول ایڈوائزری میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ایرانی صورتحال کے پیش نظر شہری چوکس رہیں اور سیکورٹی سے متعلق مقامی ہدایات پر مکمل عمل کریں۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ خطے میں سیاسی و سماجی بے چینی کے اثرات عام شہریوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں، اس لیے احتیاط ہی سب سے بہتر حکمت عملی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری بحران، بالخصوص فلسطین سمیت دیگر علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال اور عوامی احتجاجات نے پورے خطے کے ماحول کو حساس بنا دیا ہے، جس کے باعث کئی ممالک نے اپنے شہریوں کے لیے سفری انتباہات جاری کیے ہیں۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایڈوائزری وقتی نوعیت کی ہے، حالات کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جیسے ہی صورتحال میں بہتری آئے گی، سفری ہدایات پر نظرثانی کی جائے گی۔ وزارت خارجہ نے اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ کسی بھی مشکل گھڑی میں انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل گیا ہے کہ کے لیے
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ