Jasarat News:
2026-07-24@08:06:42 GMT

سرکاری اداروں کی تباہ حالی

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان کی معیشت اس وقت جن پیچیدہ اور گمبھیر مسائل سے دوچار ہے، ان میں سرکاری ملکیتی ادارے ایک خاموش مگر مسلسل بڑھتا ہوا خطرہ بن چکے ہیں۔ خبر کے مطابق مالی سال 2024-25 کے اعداد و شمار نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر ان اداروں کی ساخت، انتظام اور احتساب کے نظام میں فوری اور بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو قومی خزانہ ایک ایسی دلدل میں دھنستا چلا جائے گا جس سے نکلنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کو 123 ارب روپے کا خالص نقصان ہوا، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہی خسارہ 30.

6 ارب روپے تھا۔ یوں محض ایک سال میں ان اداروں کے خالص نقصانات میں تقریباً 300 فی صد کا ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو حکومتی پالیسی سازی اور گورننس پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ صورت حال اس وقت اور زیادہ تشویشناک ہو جاتی ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی میں ہی بڑے خسارے والے سرکاری اداروں نے مجموعی طور پر 343 ارب روپے کے نقصانات کی اطلاع دی ہے۔ اگرچہ سرکاری بیانیے کے مطابق یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 2 فی صد بہتری ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس معمولی بہتری کو اس پس منظر میں کوئی بڑی کامیابی کہا جا سکتا ہے جب مجموعی خسارہ سیکڑوں ارب روپے تک پہنچ چکا ہو؟ یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک بڑے زخم پر معمولی سی پٹی لگا کر اطمینان کر لیا جائے، جبکہ اندرونی انفیکشن پورے جسم کو کھوکھلا کر رہا ہو۔

کابینہ کمیٹی برائے سرکاری اداروں کے حالیہ اجلاس میں پیش کی گئی جامع کارکردگی رپورٹ نے کئی تلخ حقائق کو بے نقاب کیا ہے۔ مالی سال 25-2024 میں سرکاری اداروں کی مجموعی آمدنی 12.4 ٹریلین روپے رہی، جو بظاہر ایک بڑی رقم ہے، مگر اس آمدنی کا بڑا حصہ منافع میں تبدیل ہونے کے بجائے انتظامی نااہلی، مالی بدعنوانی، تکنیکی نقصانات اور ناقص منصوبہ بندی کی نذر ہو گیا۔ خاص طور پر تیل کے شعبے میں عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے باعث منافع میں کمی ضرور ہوئی، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف عالمی عوامل ہی ان اداروں کی خراب کارکردگی کے ذمے دار ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ دہائیوں سے جاری ناقص حکمرانی، سیاسی مداخلت اور میرٹ کے قتل نے ان اداروں کو اس حال تک پہنچایا ہے۔ منافع کمانے والے سرکاری اداروں کے مجموعی منافع میں 13 فی صد کمی ہو کر 709.9 ارب روپے رہ جانا بھی ایک تشویش ناک رجحان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ادارے جو قومی خزانے کے لیے سہارا بن سکتے تھے، خود دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب خسارے میں چلنے والے اداروں کے مجموعی نقصانات اگرچہ 2 فی صد کم ہو کر 832.8 ارب روپے رہے، لیکن اس معمولی کمی کے باوجود مجموعی طور پر سرکاری اداروں کا نتیجہ 122.9 ارب روپے کے خالص نقصان کی صورت میں نکلا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں چار گنا سے بھی زیادہ ہے۔ ان اعداد و شمار کے پیچھے جو کہانیاں چھپی ہیں، وہ ہماری ریاستی انتظامیہ کی ناکامیوں کی ایک طویل فہرست پیش کرتی ہیں۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی 153.3 ارب روپے کے خسارے کے ساتھ سرفہرست ہے، اور اس کے مجموعی نقصانات اب 1953 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ یہ رقم کئی بڑے ڈیموں، موٹرویز یا توانائی منصوبوں کے برابر ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر این ایچ اے جیسا ادارہ، جس کے پاس ٹول ٹیکس، سرکاری فنڈنگ اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کے مواقع موجود ہیں، مسلسل خسارے میں کیوں جا رہا ہے؟ کیا اس کی وجہ ناقص منصوبہ بندی، مہنگے قرضے، تاخیر کا شکار منصوبے اور بدعنوانی نہیں؟ اسی طرح بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، کوئٹہ الیکٹرک، سکھر الیکٹرک اور پشاور الیکٹرک، اربوں روپے کے نقصانات کے ساتھ قومی معیشت پر بوجھ بنی ہوئی ہیں۔ کوئٹہ الیکٹرک کو 58.1 ارب، سکھر الیکٹرک کو 29.6 ارب اور پشاور الیکٹرک کو 19.7 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ ان اداروں کے نقصانات کی بڑی وجہ لائن لاسز، بجلی چوری، ناقص وصولیاں اور فرسودہ انفرا اسٹرکچر ہیں۔ یہ وہ مسائل ہیں جو برسوں سے دہرائے جا رہے ہیں، مگر حل آج تک تلاش نہیں کیا جا سکا۔

پاکستان ریلوے کا 26.5 ارب روپے کا خسارہ بھی ایک المیہ ہے۔ جب کے اس کے وزیر بہت اچھا کی رٹ لگائے ہوئے ہیں۔ ایک ایسا ملک جسے جغرافیائی لحاظ سے ٹرانزٹ ہب بننے کا موقع حاصل ہے، وہاں ریلوے جیسے سستے اور ماحول دوست نظام کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ سیاسی بنیادوں پر تقرر، پرانی ٹیکنالوجی، ناقص سروس اور سرمایہ کاری کی کمی نے اس ادارے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ پاکستان اسٹیل ملز، جسے کبھی صنعتی ترقی کی علامت سمجھا جاتا تھا، دانستہ نااہلی سے آج 15.6 ارب روپے کے سالانہ نقصان کے ساتھ محض ایک بوجھ بن چکی ہے۔ یہ تمام اعداد و شمار اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ سرکاری ادارے اب صرف مالی نہیں بلکہ پالیسی بحران بھی بن چکے ہیں۔ آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے بار بار پاکستان سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ اپنے سرکاری اداروں کی اصلاح کرے؛ لیکن عمل کروانے پر زور نہیں دیتے ہیں۔ حکومت اشرافیہ مافیا کے ہاتھوں ایسا کچھ نہیں کررہی جس سے یہ اونے پونے بکنے کے بجائے ٹھیک ہوسکیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سرکاری اداروں کو سیاسی بھرتیوں اور اقربا پروری کا گڑھ بنا دیا گیا ہے۔ انہیں کاروباری اصولوں کے بجائے سیاسی مفادات کے تحت چلایا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کارکردگی کے بجائے وفاداری معیار بن جاتی ہے، اور ادارے مسلسل خسارے میں ڈوبتے چلے جاتے ہیں۔ ان خساروں کی قیمت آخرکار عام پاکستانی کو مہنگائی، ٹیکسوں اور کٹوتیوں کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سرکاری اداروں ٹھیک کیا جائے، انہیں جدید خطوط پر استوار کر کے خود مختار، شفاف اور منافع بخش بنایا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ کابینہ کمیٹی کی رپورٹ کو محض ایک رسمی دستاویز کے طور پر فائلوں میں دفن نہ کرے، بلکہ اسے عملی اصلاحات کی بنیاد بنائے۔ این ایچ اے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، پاکستان ریلوے اور اسٹیل ملز جیسے اداروں کے لیے واضح روڈ میپ تیار کیا جائے، جس میں مالیاتی نظم و ضبط، اور سخت احتساب شامل ہو۔ اگر آج ہم نے یہ مشکل فیصلے نہ کیے تو کل قومی خزانہ ان اداروں کے بوجھ تلے دب کر رہ جائے گا، اور ترقی، تعلیم، صحت اور غربت کے خاتمے کے لیے وسائل دستیاب نہیں رہیں گے۔ سرکاری اداروں کی اصلاح محض ایک معاشی ضرورت نہیں، بلکہ قومی بقا کا سوال بن چکی ہے۔

اداریہ سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سرکاری اداروں کی ارب روپے کے اداروں کے مالی سال کے بجائے یہ ہے کہ محض ایک کیا جا

پڑھیں:

’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 

پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز،  915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ 

متعلقہ مضامین

  • راولپنڈی میں ہوٹل سے سرکاری ادارے کے اہلکار کی پھندا لگی لاش برآمد
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی