گھر سے طلائی زیوارت چرانے والی گھریلو ملازمہ شوہر اور ساتھی سمیت گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
راولپنڈی کی تھانہ مورگاہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 4 ماہ قبل گھر سے طلائی زیوارت چرانے والی گھریلو ملازمہ اپنے شوہر اور ساتھی سمیت گرفتار کرلیا۔
طلائی زیورات کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم 40 لاکھ روپے برآمد کرلیے گئے، ملزمہ اپنی ساتھی کے ہمراہ گھر میں کام کاج کے بہانے داخل ہوئی اور اپنا فرضی اور جھوٹا نام مالک مکان کو بتایا، ملزمہ طلائی زیورات چرا کر روپوش ہو گئی تھی۔
مورگاہ پولیس نے ٹیکنیکل و ہیومن انٹیلیجنس ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے گھریلو ملازمہ اس کے شوہر اور ساتھی کو گرفتار کر لیا، زیر حراست افراد کے دیگر ساتھیوں سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے ریڈ کیے جا رہے ہیں۔
ایس پی پوٹھوہار طلحہ ولی نے کہا کہ شہری ملازمین کا اندراج لازمی کروائیں،شہریوں کے جان و مال پر حملہ کرنے والے قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔