سہیل آفریدی نے جھوٹ اور منافقت کی انتہا کر دی؛ عطاء اللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
سٹی 42 : وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی آج افغانستان کے ترجمان کے طور پر بات کر رہے تھے جو انتہائی قابل مذمت ہے اور شرمناک ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پوری دنیا نے افغان طالبان رجیم کی دہشت گردوں کی پشت پناہی کے ثبوت دیکھے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان کی سر زمین کے دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے کے نا قابل تردید شواہد بھی موجود ہیں۔ سہیل آفریدی نے جھوٹ اور منافقت کی انتہا کر دی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو وینزویلا کا قائم مقام صدر ڈکلیئر کردیا۔
انہوں نے مزید کہاکہ پاکستانی قوم نے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے بے پناہ قربانیاں دیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انتشار والے جب بھی منہ کھولتے ہیں، دہشت گردوں کی سہولت کاری کرتے ہیں۔ پاکستان کی ترقی فتنہ الخوارج کو قابل قبول نہیں، اسی لیے پاکستان کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سہیل آفریدی کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں۔
جوڈیشل کمیشن اجلاس، اندرونی کہانی سامنے آ گئی، فیصلے اکثریت سے ہوئے ؟
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔