معروف بھارتی یوٹیوبر اور سوشل میڈیا تجزیہ کار دھرو راٹھی کی دبئی میں ایک پاکستانی ڈیجیٹل میڈیا مارکیٹر سے ملاقات نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کرلی ہے۔

یہ ملاقات اس وقت وائرل ہوئی جب پاکستانی ڈیجیٹل مارکیٹر ثوبان طارق نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں وہ دھرو راٹھی سے مصافحہ کرتے اور ان کے کام کی تعریف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ویڈیو میں ثوبان طارق گفتگو کے دوران ایک حساس اور متنازع سوال بھی اٹھاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اور ان جیسے کئی لوگ دھرو راٹھی کی ویڈیوز شوق سے دیکھتے ہیں، تاہم ’آپریشن سندور‘ کے بعد بنائی گئی ایک ویڈیو پر انہیں تحفظات ہیں۔

ثوبان کے مطابق اس ویڈیو میں دیے گئے حوالہ جات زیادہ تر انڈین میڈیا پر مبنی تھے، جس سے یہ تاثر ملا کہ شاید وہ ویڈیو عجلت میں تیار کی گئی تھی۔

ثوبان طارق نے اسی سلسلے میں ایک اور ویڈیو کا حوالہ بھی دیا، جس میں دھرو راٹھی نے انڈین میڈیا کی اس رپورٹنگ کا ذکر کیا تھا جس میں کراچی بندرگاہ پر قبضے جیسے دعوے کیے جا رہے تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آیا یہ مواد بھی بغیر مکمل تصدیق کے پیش کیا گیا تھا۔

اس پر دھرو راٹھی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ وہ انڈین میڈیا، خاص طور پر نیوز چینلز پر تنقید کرتے رہے ہیں، تاہم ان کے نزدیک اخبارات میں شائع ہونے والی ہر خبر کو یکسر غلط قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ان کے اس جواب پر ویڈیو دیکھنے والوں کی آرا واضح طور پر منقسم نظر آئیں۔

        View this post on Instagram                      

ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے رائے دی کہ دھرو راٹھی سوال کا واضح اور تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے۔ اس ردعمل کے بعد ثوبان طارق نے ایک اور ویڈیو جاری کی، جس میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ سوال کسی ذاتی حیثیت میں نہیں بلکہ بطور پاکستانی عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے کیا تھا، مگر جواب ان کی توقعات پر پورا نہیں اترا۔

کچھ صارفین کی جانب سے یہ تنقید بھی سامنے آئی کہ ثوبان طارق کو گفتگو میں زیادہ سخت مؤقف اختیار کرنا چاہیے تھا۔ اس پر وضاحت دیتے ہوئے ثوبان کا کہنا تھا کہ اختلاف کے باوجود شائستگی ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ سامنے والا شخص ایک مخالف ملک سے تعلق رکھتا ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ بدتمیزی یا جارحانہ رویہ اختیار کیا جائے۔

یہ بحث ایک بار پھر اس پس منظر میں سامنے آئی ہے کہ گزشتہ برس مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان محدود کشیدگی کے دوران بعض انڈین میڈیا چینلز نے مبینہ طور پر من گھڑت اور غیر مصدقہ خبریں نشر کی تھیں۔ اس دوران اسلام آباد، کراچی، فیصل آباد اور سیالکوٹ سمیت کئی پاکستانی شہروں پر قبضے کے دعوے کیے گئے، جو بعد ازاں بے بنیاد ثابت ہوئے۔

دھرو راٹھی بھارت کے معروف یوٹیوبر، سوشل میڈیا انفلوئینسر اور سیاسی و سماجی تجزیہ کار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ پیچیدہ سیاسی، سماجی اور ماحولیاتی موضوعات کو سادہ اور مدلل انداز میں پیش کرنے کی وجہ سے نوجوان طبقے میں خاصی مقبولیت رکھتے ہیں۔ یوٹیوب پر ان کے سبسکرائبرز کی تعداد تین کروڑ سے زائد ہے، جبکہ ان کا مواد انڈین سیاست، حکومتی پالیسیوں، جمہوریت، معیشت اور فیک نیوز جیسے موضوعات کے گرد گھومتا ہے، جس کی وجہ سے وہ بیک وقت پذیرائی اور تنقید دونوں کا سامنا کرتے رہتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انڈین میڈیا سوشل میڈیا دھرو راٹھی

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد جہنم واصل
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی