پاکستان کے پاس کھربوں ڈالر کے معدنی وسائل کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:عالمی جریدے نے پاکستان میں کھربوں ڈالر مالیت کے معدنی وسائل کی موجودگی کا انکشاف کردیا۔
عالمی جریدے ”دی نیشنل انٹرسٹ“ میں شائع ایک مضمون کے مطابق پاکستان کے پاس کھربوں ڈالر مالیت کے غیر استعمال شدہ معدنی وسائل موجود ہیں، جنہیں ملک کی اسٹریٹجک معاشی ترقی کے لیے بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
مضمون میں پاکستانی معدنی شعبے میں کی گئی اصلاحات، جدید مائننگ پالیسی اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان عالمی معیار کے مطابق اپنی مائننگ پالیسی کو ہم آہنگ کر رہا ہے اور اہم معدنیات میں ایک اسٹریٹجک مرکز کے طور پر ابھرتا جا رہا ہے۔
دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق اس میں خاص طور پر ریکوڈک منصوبہ نمایاں ہے، جس میں 5.
9 ارب ٹن معدنی ذخائر موجود ہیں اور یہ اربوں ڈالر کی آمدن کے ساتھ ساتھ ہزاروں روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی قیمتی پتھروں کی مالیت تقریباً 450 ارب ڈالر ہے، تاہم موجودہ سالانہ برآمدات صرف 5.8 ملین ڈالر ہیں۔
ملک نے پہلی قومی جیم اسٹون پالیسی متعارف کرائی ہے اور 5 سال کے دوران جیم اسٹون کی برآمدات کو 1 بلین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان لیتھیم، کوبالٹ اور نایاب زمینی عناصر میں عالمی سپلائی چین کا حصہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
معدنی اصلاحات سے ٹیکنالوجی ٹرانسفر، صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق آئندہ 10 سال میں معدنی اور جیم اسٹون سیکٹر کی ترقی سے سالانہ پانچ سے سات بلین ڈالر تک جی ڈی پی میں اضافہ ممکن ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان منرلزانویسٹمنٹ فورم 2026 اپریل میں شیڈول ہے، جس کا مقصد غیرملکی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنا اور ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانا ہے۔
جریدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان خود کو عالمی معدنی منڈی میں ایک ذمہ دار اور قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔