اسلام آباد: ڈیڈ لائن میں ایک روز باقی، بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگانے سے متعلق مہم جاری ہے جبکہ ڈیڈ لائن ختم ہونے میں صرف ایک روز باقی رہ گیا ہے، ضلعی انتظامیہ کے مطابق 15 جنوری کے بعد بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے خلاف باقاعدہ کارروائیاں شروع کر دی جائیں گی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ بغیر ایم ٹیگ گاڑیاں یکم جنوری سے اسلام آباد میں داخل نہیں ہو سکیں گی، شہریوں کی سہولت کے پیش نظر ایم ٹیگ لگوانے کی مہلت میں 15 جنوری تک توسیع کی گئی تھی۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق اسلام آباد میں قائم 16 ایم ٹیگ سینٹرز پر اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگائے جا چکے ہیں جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2 ہزار 965 گاڑیوں کو ایم ٹیگ جاری کیے گئے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن کا کہنا ہے کہ ایم ٹیگ لگوانے کی آخری تاریخ کل 15 جنوری ہے، جس کے بعد بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی، اسلام آباد کے 12 انٹری پوائنٹس اور ناکہ جات پر بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کی نشاندہی کے لیے خصوصی ریڈرز نصب کر دیے گئے ہیں۔
ڈی سی اسلام آباد نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ کارروائی سے بچنے کے لیے مقررہ تاریخ سے قبل ہر صورت اپنی گاڑی پر ایم ٹیگ لگوا لیں۔
انتظامیہ کے مطابق ایم ٹیگ نظام کا مقصد شہر میں ٹریفک مینجمنٹ، سیکیورٹی اور ڈیٹا ریکارڈ کو مؤثر بنانا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں اسلام آباد
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔