عمران خان سے ملاقات کا دن ‘ کسی ر ہنما کو اجازت نہ ملی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی،پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں کسی بھی رہنما کو ملاقات کی اجازت نہیں ملی جبکہ فہرست میں شامل دو رہنما اڈیالہ جیل ہی نہیں آئے، ترجمان بانی پی ٹی آئی نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے جمہوریت ڈی ریل ہو، ہم چاہتے ہیں سب کا احتساب ہو۔بانی پی ٹی آئی عمران خان سے آج جیل میں دوستوں کی ملاقات کا دن تھا جہاں ملاقات کی فہرست میں 6 رہنمائوں میں سے 4 رہنما ترجمان بانی پی ٹی آئی نیازاللہ نیازی، سینیٹر فلک ناز، انعام اللہ خان یوسفزئی اور صفدر حسین ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل آئے لیکن کسی کو بھی بانی سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی، فہرست میں شامل پی ٹی آئی رہنما عمران شوکت اور سعد علی خان اڈیالہ جیل ہی نہیں پہنچے۔اڈیالہ روڈ داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو میں ترجمان بانی نیازاللہ نیازی نے کہا کہ کسی پارٹی لیڈر کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی، ملاقات نہیں ہونے سے ہمیں نہیں معلوم بانی پی ٹی آئی کس حالت میں ہیں، چار ہفتوں سے کسی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ کے احکامات ہیں ملاقات کرائیں، نہ فیملی کی ملاقات ہو رہی ہے، نہ وکلا نہ ہی لیڈر شپ کی، بشریٰ بی بی کے ساتھ بھی کسی کی ملاقات نہیں ہورہی ہے، قیدی کا حق ہے کہ وہ ہفتے میں دو بار اپنے اہل خانہ سے ملاقات کرے۔نیازاللہ نیازی نے کہا کہ ہماری توہین عدالت کی درخواستیں بھی مختلف عدالتوں میں پڑی ہیں، 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ مکمل طور پر ایگزیکٹیو کے نیچے ہے، ملک کا وزیراعظم بھی کہتا ہے کہ ملاقات ہوگی یا نہیں پوچھ کر بتاتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی فوجی ادارے کے خلاف بات نہیں کی لیکن مجھے بھی ملاقات کرنے نہیں دی، میں بانی کا ترجمان ہوں مجھے کیوں ملاقات سے روکا جاتا ہے، نواز شریف بھی جیل میں تھا سب پارٹی لیڈر اس سے ملاقات کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے واضح کیا تھا کہ ان کے ایکس اکاؤنٹ سے جو بھی پوسٹ ہوگی، نیاز اللہ نیازی تحریر کریں گے۔ترجمان بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ کل الیکشن کرائیں لوگ آپ کو بتا دیں گے کہ وہ کس کے ساتھ ہیں، ایک سائیڈ پر بانی کا نظریہ ہے اور دوسری طرف 77 سال سے قائم نظام ہے۔دوسری جانب تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ ہوشمندی کا تقاضا ہے بات کی جائے، ہم نہیں چاہتے کچھ ایسا ہو جس سے پاکستان کا نقصان ہو۔ہائی کورٹ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کراچی گئے تو لوگوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا، جس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اب تمام لوگوں کو پتا چل چکا ہے کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام اب اپنا مقدمہ خود لڑیں گے کیونکہ عوام کو آئین نے یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنے لیے آواز اٹھائیں۔ ہم اپنا مقدمہ عوام کے سامنے رکھ چکے ہیں۔سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو بے وقعت کیا گیا ہے۔ ہوش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ بیٹھ کر بات کی جائے۔ اگر لوگوں کو ناحق جیل میں ڈالا جائے گا تو ملک کیسے آگے بڑھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخ اپنا فیصلہ خود کرتی ہے، اب ہر شخص نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس طرح زندگی گزارنا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس وقت نظام پر مسلط ہیں انہیں عوام کے ساتھ بیٹھنا ہوگا، کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں ایسا کچھ ہو جس سے پاکستان کا نقصان ہو۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اس وقت ملک میں ترقی نہیں ہو رہی اور نہ ہی سرمایہ کاری ہو رہی ہے، آئندہ کیا ہوگا اس کی ذمہ داری اب انہی پر عائد ہوتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجا انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی ا ئی کا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل ملاقات کی سے ملاقات جیل میں نہیں ہو
پڑھیں:
صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
ویب ڈیسک: صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ