اسلام آباد:(نیوزڈیسک) مالی سال 2025 کے دوران وفاقی حکومت نے ٹیکس اور لیویز کی مد میں 130 کھرب روپے یعنی 13 ٹریلین روپے سے زائد رقم جمع کی ہے۔ یہ وفاق کی جانب سے حاصل کی گئی ٹیکس محصولات ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 11.3 فیصد کے برابر بنتی ہیں۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق موجودہ رفتار کو مدنظر رکھا جائے تو وفاقی ٹیکس وصولیاں جون 2028 تک جی ڈی پی کے 15 فیصد کے مقررہ ہدف کی جانب بڑھ رہی ہیں، جو مالی نظم و ضبط اور اصلاحات کی سمت ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ وفاق کی طرز پر صوبائی حکومتوں کو بھی اپنے ٹیکس موصولات کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ صوبائی حکومتیں وفاق کے مقابلے میں مجموعی طور پر صرف 0.

85 فیصد کی سطح پر کھڑی ہیں، حالانکہ ان کے پاس خدمات اور زراعت جیسے مؤثر ٹیکس ذرائع موجود ہیں۔

خرم شہزاد کے مطابق اس امر کی ضرورت ہے کہ وفاق اور صوبے مل کر مزید متوازن اصلاحات کے ذریعے ہر سطح پر ٹیکس وصولی کی کوششوں کو مضبوط بنائیں تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔

مشیر وزیر خزانہ نے وفاقی حکومت کی جانب سے ٹیکس اور لیویز کی مد میں 13 کھرب روپے کی وصولی کو ایک حوصلہ افزا اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مالی نظم و نسق اور اصلاحاتی اقدامات کی کامیابی کا مظہر ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ

قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور  مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔

سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر