اسلام آباد: سنگجانی میں پولیس پر فائرنگ، 2 مسلح ڈاکو گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
اسلام آباد کے تھانہ سنگجانی کے علاقے میں مسلح ڈاکوؤں نے پولیس ٹیم پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، تاہم پولیس کی بہادری اور حفاظتی اقدامات کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
پولیس کے مطابق، چیکنگ کے دوران 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 مشتبہ ملزمان کو روکنے کی کوشش کی گئی، جس پر ملزمان نے پولیس پر براہ راست فائرنگ شروع کر دی۔
پولیس ٹیم نے فوری ردعمل دیتے ہوئے ملزمان کا تعاقب کیا اور فائرنگ کے دوران جنگل ایریا میں 2 ملزمان زخمی حالت میں پکڑے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد پولیس سے منسوب سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی آڈیو پر ترجمان کی وضاحت
زخمی ملزمان، واجد اور سمیع اللہ، فوری طور پر گرفتار کر لیے گئے۔ ان کے قبضے سے چھینے گئے 3 قیمتی موبائل فون، 2 موٹر سائیکلیں اور 65,000 روپے نقد رقم برآمد ہوئی۔
اس کے علاوہ، 2 پستول سمیت ایمونیشن بھی ضبط کیا گیا، جو وارداتوں میں استعمال ہو رہے تھے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد پولیس کی کارروائی، دہرے قتل کا مجرم گرفتار
پولیس کے مطابق، باقی 2 ملزمان اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، جن کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
ملزمان سنگین جرائم کے متعدد مقدمات میں اسلام آباد پولیس کو مطلوب تھے۔ فائرنگ کے دوران سرکاری گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔
اسلام آباد پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ مشتبہ افراد کی معلومات فوراً پولیس کے ساتھ شیئر کریں تاکہ باقی فرار ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام اباد پولیس ڈاکو سنگجانی فائرنگ گرفتار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد پولیس ڈاکو فائرنگ گرفتار اسلام آباد
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز