گل پلازہ آگ حادثہ نہیں حکومتی غفلت اور ناقص فائر سیفٹی نظام کی ناکامی ہے: جاوید قریشی
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
کراچی میں گل پلازا آتشزدگی کے باعث قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور کئی خاندانوں کے اجڑ جانے پر صدر آل پاکستان انجمن تاجران سندھ جاوید قریشی نے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
جاوید قریشی نے کہا کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ حکومتی غفلت اور ناقص فائر سیفٹی نظام کی ناکامی ہے، کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود سو سے زائد تاجروں کو گل پلازا میں پھنسے رہنا پڑا، جبکہ فائر بریگیڈ کی تاخیر اور پانی کی کمی نے جانی نقصان میں اضافہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ جاں بحق افراد صرف اعداد نہیں بلکہ وہ اپنے خاندانوں کا سہارا تھے اور اربوں روپے کی محنت لمحوں میں راکھ بن گئی۔
تین منزلہ عمارت میں ایک ہزار سے زائد دکانیں موجود ہیں، گراؤنڈ اور میزنائن فلور مکمل طور پر جل گئے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اتنے بڑے انسانی المیے کے باوجود وزیراعلیٰ سندھ موقع پر نہیں پہنچے، جبکہ میئر کراچی کی عدم موجودگی حکومتی بے حسی کو ظاہر کرتی ہے۔
جاوید قریشی نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں اور تاجروں کو فوری انصاف اور ریلیف فراہم کیا جائے، آل پاکستان انجمن تاجران سندھ ہر متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جاوید قریشی
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :