Juraat:
2026-07-24@09:01:19 GMT

پاکستان میں خیالات پرکڑی نظر اور سخت گرفت

اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT

پاکستان میں خیالات پرکڑی نظر اور سخت گرفت

حاصل مطالعہ
۔۔۔۔۔۔
عبد الرحیم

شاعر اور مضمون نگار حارث خلیق کے مطابق پاکستان میں آئیڈیاز،خیالات،تخلیقی آرٹس وادب پرکڑی نظر اور سخت گرفت کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ خودملک۔ایسی چیزیں موجود ہیں جنہیں ذی اثر آدمی،فرمانروا،کمانڈر ،جج اور علماء سننا، دیکھنا ،سونگھنا،سمجھنا یا یقین کرنا نہیں چاہیں گے اورجو ان کی خدمت کیلئے حاضر ہیں، وہ اپنے آقائوں کی مرضی کو عملی جامہ پہنانے کیلئے آلہ کار بنے رہیں گے۔
یہ بات دنیا کے کسی بھی حصے کیلئے صحیح ہے۔تاہم ایسی ریاستیں اور معاشرے موجود ہیں جہاںگزشتہ صدی کے دوران مختلف خیالات کو قبول کرنے اوراختلاف رائے کو برداشت کرنے کی سطح میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔تاہم پاکستان اپنے تمام اداروں مثلاً بیوروکریسی،عدلیہ اور فوج کے ساتھ استعماری ورثہ ہونے کی بناء پر برٹش انڈیا کی استعماری جانشین ریاست رہاہے۔ہم اپنے اداروں، اقتصادی طبقوں اور سماجی طرز عمل کے ساتھ ایک جدید جمہوریہ بننے کیلئے ابھی تک ہاتھ پائوں مار رہے ہیں۔ لیکن دراصل ہم ایک کوتاہ بین ریاست ہیں جو ایک ناقابل برداشت معاشرہ بنے ہوئے ہیں۔یہ معاشرہ اس وقت سے زیادہ بے رحم بن گیا ہے جب سے استعماری آقائوں نے برائون صاحبان کو ریاست چلانے کی چھڑی ریاست کے مسلح بازو کے حوالے کی ہے۔

نئی گولی کے استعمال سے انسان150تک زندہ رہ سکتا ہے!
شین زین اسٹارٹ اپ لونوی بائیو سائنسز نے ایک ایسی گولی کا اعلان کیا ہے جو زومبی خلیوں پر اثر انداز ہوگی جس کے نتیجہ میں انسان 150سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔یہ دوا انگوروں کے بیجوں سے تیار کی گئی ہے،اس کے چوہوں پر امیدافزا نتائج بر آمد ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر زندگی کی میعاد میں9.

4 فی صد اور علاج کی ابتدا سے64.2 فی صد اضافہ ہوا ہے۔لونوی کے ایگزیکٹوز کا کہنا ہے کہ یہ عمر سے متعلق بیماریوں میں کمی لا سکتی ہے،خلیوں کی صحت کو مضبوط بنا سکتی ہے جس کے نتیجہ میں چین میں طویل العمری کی تحقیق میں اضافہ ہوا ہے۔

ٹرمپ کی خود کو عظیم تر بنانے کی کوشش
صدر ٹرمپ کی اپنے نام سے محبت اور پسندیدگی ان کی دوسری مدت میں عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ڈونلڈ جے ٹرمپ یونائٹیڈ اسٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈٹرمپ کینیڈی سنٹر بن گیا ہے جو پرفارمنگ آرٹس کی جگہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگرآپ اپنے آپ کو پروموٹ نہیں کرتے تو کوئی اور نہیں کرے گا۔خود کو عظیم تر بنانے کی مثال صدارت کی تاریخ میں کبھی نہیں سنی گئی۔اس نے انہیں فاتحین اور آمروں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔
سکندر اعظم نے ایسا کیا۔اس نے اپنی سلطنت میں تقریباً70 شہر اپنے نام پر رکھے۔یہ سلطنت اس نے چوتھی صدی قبل مسیح میںفوجی طاقت اور قتل عام سے قائم کی تھی۔اسی طرح سوویٹ رہنما اسٹالن نےTsaritsyn کا نام اسٹالن گراڈ رکھ دیا،نپولین نےlouvre کا نامMusee Napoleon رکھ دیا۔ جرمنی میں پلازے، ایڈولف ہٹلرپلازے بن گئے۔مائو زے تنگ کی شخصیت کی عقیدت کا اظہار ٹیانن مین اسکوائر میں ان کا بڑا پورٹریٹ ہے اور ان کے اقوال پر مبنی لٹل ریڈ بْک ہے۔
اسرائیل میں یونیورسٹی آف حیفہ میںاسٹریٹس اور دوسرے پبلک مقامات کانام رکھنے کی سیاسی اور تاریخی اہمیت کا مطالعہ کرنے والے ایمیریٹس پروفیسر مائوز ازار یاہو کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد شہرت ہے اور اور ان کے خیال میںشہرت لافانی ہے۔ان ناموں کا کیا حشر ہوا۔Musee Napoleon کا نام دوبارہ louvre رکھ دیا گیا،اسٹالن گراڈ اب وولگو گراڈ بن گیا۔ہٹلر کے پلازے اس کی موت کے ساتھ ہی مرگئے۔

اے آئی کارکنوں کو بے دخل کر دے گی،کیا کیا جائے؟
اے آئی کا خطرہ صرف ملازمتوں کا بحران پیدا نہیں کرتابلکہ تعلیمی چیلنج بھی پیدا کرتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ لوگ کام نہیں کر سکتے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ایسا نظام قائم نہیں کیا ہے جس سے انہیں سیکھنا جاری رکھنے میں مدد مل سکے اور وہ نئے مواقع سے فائدہ اٹھاسکیں جس طرح کہ دنیا میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے۔ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیں لاکھوں افراد کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اہلیت کی اہمیت ہے،نہ کہ انہوں نے کتنے گھنٹے سیکھنے میں گزارے۔ لوگوں کو ہر عمر میں سیکھنے کی ضرورت ہے۔بہت سے افراد ترقی کرتے ہوئے شعبوں میں داخل نہیں ہوسکتے کیونکہ ان میں بنیادی سائنس،پڑھنے کو سمجھنے اور ریاضی کی مہارت کی کمی ہے جن پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔یہ اسکلز کارکنوں کونئے کیرئیرز کیلئے تیار ہونے میں مدد دے سکتے ہیں۔لاکھوں ملازمتیں ان کا انتظار کریں گی۔امریکی بیورو آف لیبر اسٹیٹکس کا کہنا ہے کہ آئندہ عشرے کے دوران صحت کی نگہداشت کیلئے تقریباً20 لاکھ جابزہرسال پیدا ہونگیں۔یونیسکو کے مطابق2030 تک4 کروڑ40 لاکھ اساتذہ کی کمی کا اندازا ہے۔تعمیراتی صنعت کو طلب پورا کرنے کیلئے5لاکھ سے زائد سالانہ اضافی کارکنوں کی ضرورت ہوگی ۔الیکٹریشنز اور پلمبرز کیلئے اوسط سے زائد تیزی سے راہیں کْھل رہیں ہیں۔ ہوٹلوں اور بزرگوں کی نگہداشت کی صنعتیں سکڑنے کی بجائے پھیل رہی ہیں۔بامعنی کام کی کمی نہیں،صرف اس میں راہوں کی کمی ہے۔
٭٭٭

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ کی ضرورت کی کمی

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی