میئر کراچی کا شہید فائر فائٹر فرقان کے ورثا کو ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
کراچی:
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے گل پلازا میں ریسکیو آپریشن کے دوران شہید ہونے والے فائر فائٹر فرقان کے ورثا کے لیے ایک کروڑ روپے کی مالی معاونت کا اعلان کر دیا۔
میئر کراچی شہید فائر فائٹر فرقان کے گھر پہنچے جہاں انہوں نے اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔اس موقع پر میئر کراچی نے کہا کہ شہید فرقان نے بہادری، دلیری اور فرض شناسی کے ساتھ اپنی جان قربان کر کے قومی خدمت کی نئی مثال قائم کی ہے، ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی شہید فرقان کی بیوہ کو ملازمت فراہم کرے گی جبکہ ان کے بچے کے تمام تعلیمی اخراجات بھی ادارہ برداشت کرے گا۔
مزید پڑھیںگل پلازہ آمد پر لوگوں کی میئر کراچی کے خلاف نعرے بازی
میئر کراچی نے مزید بتایا کہ شہید فرقان کی لازوال خدمات کے اعتراف میں ناظم آباد فائر اسٹیشن کو شہید فرقان کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ریٹائرمنٹ سے متعلق تمام مالی فوائد اور تنخواہیں باقاعدگی سے شہید فرقان کی بیوہ کو ملتی رہیں گی۔
بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی اپنے بہادر فائر فائٹرز کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر مشکل گھڑی میں ان کا بھرپور ساتھ دیتی رہے گی۔ اس موقع پر میونسپل کمشنر کراچی سید محمد افضل زیدی اور دیگر افسران بھی میئر کراچی کے ہمراہ موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شہید فرقان میئر کراچی فرقان کے
پڑھیں:
کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
کراچی:ملیر 15 کے علاقے میں سندھ رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ مقابلے میں تین ملزمان ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ بھتہ خوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد تین ملزمان مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔
فائرنگ ختم ہونے کے بعد ہلاک اور زخمی ملزمان کو ریسکیو کی ایمبولینسوں کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت شاہ رخ، راحب اور علی حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت محمد وسیم کے نام سے کی گئی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک اور گرفتار ملزمان بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں اور ملزمان کے ممکنہ ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔