فی الحال اسٹیبلشمنٹ سے کوئی رابطہ نہیں اگر ہوا تو چھپائیں گے نہیں‘ بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ مخالفین کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں بہتر ہے صلح صفائی ہو لیکن حکومت ایک طرف ہاتھ ملائے دوسرے سے مکا مارے تو حالات بہتر نہیں ہوں گے، فی الحال اسٹیبلشمنٹ سے کوئی رابطہ نہیں اگر ہوا تو چھپائیں گے نہیں۔ راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ ہم چیف جسٹس آف پاکستان سے دوبارہ ملاقات کی کوشش کررہے تھے لیکن وہ مصروف ہیں، چیف جسٹس سے ملاقات کے لیے 3 گھنٹے تک انتظار کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے، بانی سے 3 بہنوں کو ملاقات کرنی ہے اور باقی لوگ یہاں اظہار یکجہتی کے لیے آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت پر الزامات نہیں لگنے چاہئیں، حکومت خیبرپختونخوا کو بھی ایسے کام نہیں کرنے چاہئیں، جس سے ان پر الزامات لگ جائیں اور جو لوگ الزامات لگاتے ہیں ان سے گزارش ہے ثبوت بھی لائیں۔ مقدمات سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ17 جنوری 2025 کو القادر میں سزا ہوئی ایک سال سے اپیل نہیں لگ رہی ہے، ایک سال سے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو ابھی تک ضمانت نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ سے درخواست ہے لوگوں کو انصاف ان کی دہلیز پر ملنا چاہیے، جب انصاف کے دروازے بند ہوجاتے ہیں تو لوگ قانون ہاتھ میں لیتے ہیں، انصاف کی عدم فراہمی پر لوگ خانہ جنگی کی طرف جاتے ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ آپ کب تک سپرمین اور ونڈر بوائز کے انتظار میں رہیں گے، عدلیہ خدا کے لیے بانی پی ٹی آئی کے مقدمات سنیں اور انصاف کریں، بشریٰ بی بی پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں پھر ان کو کیوں سزا دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم بالکل واضح ہیں اگر کوئی بیک ڈور رابطہ ہوتا ہے تو ہم نہیں چھپائیں گے، ہمارا فی الوقت اسٹیبلشمنٹ سمیت کسی سے کوئی رابطہ نہیں، علامہ راجا ناصرعباس اور محمود خان اچکزئی پر اب بڑی ذمے داری ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ گریبانوں سے ہاتھ نکالنا ہوگا، گریبانوں میں ہاتھ ڈال کے کچھ حاصل نہیں ہوگا، ہم سب کو اپنی انا ختم کرنی ہوگی، ہم سمجھتے ہیں اچکزئی صاحب مؤثر کردار ادا کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مخالفین کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں بہتر ہے صلح صفائی ہو، پی ٹی آئی پاکستان، افواج پاکستان اور ریاست کے ساتھ کھڑی ہے، جب بھی ملک کی بات آئی ہم نے بھر پور حمایت کا اعلان کیا۔ حکومت اگر ایک ہاتھ سے ہاتھ ملائے تو دوسرے ہاتھ سے مکا مارے گی تو حالات بہتر نہیں ہوں گے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے حکومت کو کہا دونوں ہاتھ ملائیں تو بات بنے گی، حکومت مکے مارے گی تو لوگ پھر احتجاج ہی کریں گے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے بتایا کہ8 فروری ہمارا علامتی دن ہے، اس دن ہمارا مینڈیٹ چوری ہوگیا تھا، ہم 8 فروری کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے اور ہمارا احتجاج پرامن ہوگا، ہماری اپیل ہے لوگ شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔