ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں: یورپی یونین کا امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ معطل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلسل ٹیرف دھمکیوں اور گرین لینڈ کی ملکیت حاصل کرنے کی کوششوں کے بعد یورپی پارلیمان نے اہم فیصلہ کرلیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی پارلیمان نے اعلان کیا ہے کہ وہ یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدے پر کام کو وقتی طور پر معطل کردے گی۔
مزید پڑھیں: گرین لینڈ کا تنازع: یورپی یونین کی امریکی محصولات کے جواب میں سخت تجارتی اقدامات کی تیاری
پارلیمانی ارکان نے کہاکہ معاہدہ غیر متوازن ہے اور اس سے یورپی یونین کا نقصان اور امریکا کو فائدہ پہنچے گا۔
ارکان کے مطابق اس معاہدے کے تحت یورپ کو زیادہ تر درآمدی اشیا پر محصولات کم کرنے پڑیں گے جبکہ امریکا اپنے 15 فیصد محصولات میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔
یاد رہے کہ قبل ازیں یورپی پارلیمان کے کچھ ارکان نے مشروط طور پر اس معاہدے کو قبول کرنے کی تیاری ظاہر کی تھی، جس میں 18 ماہ کی اختتامی مدت اور امریکی درآمدات میں ممکنہ اضافے کے جواب میں حفاظتی اقدامات شامل تھے۔
تجارتی کمیٹی نے منصوبہ بنایا تھا کہ 26 اور 27 جنوری کو اس معاہدے پر ووٹ ہوگا، تاہم اب یہ عمل مؤخر کر دیا گیا ہے۔ برنڈ لانگے نے کہا کہ امریکی محصولات کی نئی دھمکیوں کی وجہ سے پہلے سے طے شدہ معاہدے پر عملدرآمد متاثر ہوا اور اسی لیے اس عمل کو مزید نوٹس تک معطل کر دیا گیا ہے۔
معاہدے کی معطلی کے نتیجے میں امریکی صدر کی ناراضی کا خدشہ ہے، جس سے امریکا یورپی درآمدات پر مزید محصولات عائد کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: یورپ سیدھے راستے پر نہیں چل رہا، گرین لینڈ کے معاملے پر انکار کیا تو یاد رکھوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ
ٹرمپ انتظامیہ نے یہ بھی واضح کیا کہ شراب یا اسٹیل پر محصولات میں چھوٹ صرف اس وقت ممکن ہوگی جب معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہو جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکی صدر تجارتی معاہدہ ٹیرف دھمکیاں ڈونلڈ ٹرمپ کام معطل وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر تجارتی معاہدہ ٹیرف دھمکیاں ڈونلڈ ٹرمپ کام معطل وی نیوز یورپی یونین ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔