اسلام ٹائمز: بلوچستان گرینڈ الائنس کی کال پر تمام سرکاری محکموں کے ملازمین 'ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس کیلیے سڑکوں پر ہیں۔ ملازمین کا مطالبہ ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں انکے ساتھ امتیازی سلوک ختم کیا جائے، لیکن جواب میں انہیں مذاکرات کے بجائے پولیس کے کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: اعجاز علی

کوئٹہ کی سڑکیں ایک بار پھر میدان جنگ بن گئیں۔ اپنے مطالبات کے لئے سڑکوں پر نکلنے والے سرکاری ملازمین پر دوسرے روز بھی لاٹھی چارج اور گرفتاریاں۔ کیا بلوچستان میں احتجاج کرنا جرم بن گیا ہے؟ بلوچستان گرینڈ الائنس کی کال پر تمام سرکاری محکموں کے ملازمین 'ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس کے لیے سڑکوں پر ہیں۔ ملازمین کا مطالبہ ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کیا جائے، لیکن جواب میں انہیں مذاکرات کے بجائے پولیس کے کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا۔ آج دوسرے روز بھی کوئٹہ پولیس نے مظاہرین کو ریڈ زون جانے سے روکنے کے لیے سخت کارروائی کی۔ گرینڈ الائنس کے سربراہ عبدالقدوس کاکڑ سمیت درجنوں ملازمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پہلے روز کے کریک ڈاؤن کے باعث سرکاری ملازمین نے جیل بھرو تحریک کا اعلان کیا، جبکہ سرکاری دفاتر کی تالا بندی کا سلسلہ پہلے سے ہی جاری تھا۔ جس کا براہ راست اثر بلوچستان کے غریب عوام پر پڑ رہا ہے۔

حکومت بلوچستان کا موقف ہے کہ بجٹ کا 80 فیصد حصہ ملازمین کی تنخواہوں پر ہو رہا ہے، لہٰذا مزید بوجھ برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا طاقت کا استعمال ہی واحد حل ہے؟ دوسری جانب ملازمین اپوزیشن کے رویے سے بھی نالاں ہیں اور انہیں "فرینڈلی اپوزیشن" قرار دے رہے ہیں۔ یہ چنگاری اب صرف بلوچستان تک محدود نہیں رہی۔ آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کے چیف کوآرڈینیٹر رحمان علی باوجوہ نے اپنے پیغام میں خبردار کیا ہے کہ اگر بلوچستان کے ملازمین کے مسائل حل نہ ہوئے تو احتجاج کا رخ وفاقی دارالحکومت کی طرف موڑ دیا جائے گا۔ عوام حکومت کے اس سخت رویے پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک طرف مہنگائی کی چکی میں پستا ملازم ہے اور دوسری طرف بند کمروں میں بیٹھی انتظامیہ۔ کیا یہ ڈیڈ لاک ختم ہوگا یا کوئٹہ کا یہ احتجاج کسی بڑے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوگا؟ قارئین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.

youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گرینڈ الائنس کریک ڈاؤن

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن