data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور:پاکستان کے سابق اور موجودہ کرکٹرزنے کہا ہے کہ انہوں نے ایک نجی کمپنی میں باقاعدہ اور قانونی طور پر سرمایہ کاری کی تھی اور اب تک انہیں کسی قسم کے فراڈ یا دھوکے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

پاکستان کے سابق اور موجودہ کرکٹرزسے منسوب مبینہ فراڈ کی خبروں پر کھلاڑیوں کی جانب سے اہم وضاحتی بیان سامنے آ گیا ہے، جس میں انہوں نے الزامات کی تردید کرتے ہوئےکہا کہ جس کمپنی میں سرمایہ کاری کی گئی، وہ مسلسل ان کے ساتھ رابطے میں ہے اور کمپنی انتظامیہ کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ مارچ 2026 تک تمام واجبات ادا کر دیے جائیں گے، اب تک صرف دو چیک واپس آئے ہیں، جسے وہ کسی بڑے فراڈ کا ثبوت قرار نہیں دیتے۔

کھلاڑیوں کے مطابق اس معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے بھی ان سے رابطہ کیا تھا اور صورتحال سے آگاہی حاصل کی۔ کرکٹرز نے چیئرمین پی سی بی کو بتایا کہ فی الحال کوئی سنگین مسئلہ سامنے نہیں آیا اور کمپنی کی جانب سے ادائیگیوں کی یقین دہانی موجود ہے۔

 انہوں نے مزید بتایا کہ کمپنی کا مالک دبئی میں مقیم ہے اور وہ مسلسل سرمایہ کار کھلاڑیوں سے رابطے میں ہے، اگر مستقبل میں کوئی منفی پیش رفت سامنے آئی تو وہ متعلقہ فورمز اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو فوری طور پر آگاہ کریں گے، اس وقت معاملہ زیرِ نگرانی ہے اور کسی قانونی کارروائی کی نوبت نہیں آئی۔

دوسری جانب اس سے قبل سامنے آنے والی اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مبینہ فراڈ سے متعلق کرکٹرز نے کسی پلیٹ فارم پر باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی اور نہ ہی اس معاملے کو حل کروانے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ سے رجوع کیا گیا، بعض کھلاڑیوں نے ایک سابق کپتان کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے ایک کاروباری شخصیت کے ساتھ سرمایہ کاری کی۔

اطلاعات کے مطابق موجودہ کرکٹرز میں بھی سابق اور موجودہ کپتانوں کے نام شامل بتائے گئے ہیں، جبکہ کچھ کھلاڑیوں نے براہِ راست اس کاروباری شخصیت کے ساتھ سرمایہ کاری کی۔ غیر معمولی منافع کے حصول کی امید میں کروڑوں روپے فراہم کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس کے بعد سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں مبینہ فراڈ کی خبریں گردش کرنے لگیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری کی مبینہ فراڈ

پڑھیں:

دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ

ایک روزہ سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستان کی بیٹنگ لائن(bating line colapse) 232 رنز کا تعاقب کرتے ہوئے لڑکھڑا گئی۔ پاکستان نے 27 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 119 رنز بنا لیے ہیں۔

اس سے قبل لاہور میں جاری میچ میں پاکستان کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلیا کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز بنا سکی۔

آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین اور کپتان جوش انگلس 51 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ میٹ رینشا 43، اولیور پیک 31، میتھیو شارٹ 15، مارنس لبوشین 5، میتھیو کوہنمن 5 اور ایلکس کیرے 0 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔

مزید پڑھیں:آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے 3 جبکہ عرفات منہاس، ابرار احمد اور حارث رؤف نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر