چترال، دیر، سوات، شانگلہ اور کوہستان میں شدید بارش اور برفباری ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بالائی علاقوں میں چند مقامات پر شدید برفباری اور درجہ حرارت میں کمی متوقع ہے جبکہ ہری پور، پشاور، مردان، نوشہرہ اور کوہاٹ میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا (کے پی) کے مختلف علاقوں میں اتوار کی رات سے مزید بارش اور برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی خیبر پختونخوا نے الرٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ 25 سے 27 جنوری تک مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ متوقع ہے، جس کے تحت چترال، دیر، سوات، شانگلہ اور کوہستان میں شدید بارش اور برفباری ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بالائی علاقوں میں چند مقامات پر شدید برفباری اور درجہ حرارت میں کمی متوقع ہے جبکہ ہری پور، پشاور، مردان، نوشہرہ اور کوہاٹ میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ ادھر ناران، کاغان، کالام اور چترال میں سڑکیں بند اور پھسلن کا خدشہ ہے اور بالائی اضلاع میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا بھی خطرہ ہے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے تمام ضلعی انتظامیہ کو الرٹ جاری کرتے ہوئے پیشگی اقدامات کی ہدایت کردی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بارش اور برفباری کی پیشگوئی گئی ہے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • مون سون کا طاقتور سپیل جاری، مختلف علاقوں میں آج بھی بارشوں کی پیشگوئی
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن