ہر سال برف، ہر سال بے بسی
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260125-03-2
ملک کے بالائی علاقوں میں حالیہ شدید برفباری اور سخت سرد موسم نے ایک بار پھر ہمارے ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام، بنیادی ڈھانچے اور پیشگی تیاریوں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ آزاد کشمیر، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے متعدد اضلاع میں کئی کئی فٹ برف پڑنے سے نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے، رابطہ سڑکیں بند، بجلی کی فراہمی معطل اور سیکڑوں افراد محصور ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال کسی اچانک آفت سے زیادہ ایک متوقع بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس کے لیے تیاری کا فقدان واضح دکھائی دیتا ہے۔ ہر سال موسمِ سرما میں بالائی علاقوں میں برفباری ایک معمول کا حصہ ہے، مگر اس کے باوجود سڑکوں کی بندش، اشیائے خورو نوش کی قلت، بجلی کے نظام کا درہم برہم ہونا اور ہنگامی حالات میں ایمبولینسوں کا پھنس جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم اب تک موسمی خطرات کو سنجیدگی سے منصوبہ بندی کا حصہ نہیں بنا سکے۔ آزاد کشمیر کے ضلع حویلی میں ایمبولینس سمیت درجنوں گاڑیوں کا برف میں پھنس جانا اور خواتین و بچوں کا گھنٹوں محصور رہنا ایک لمحہ ٔ فکر ہے۔ تاہم اس مشکل گھڑی میں انتظامیہ کی جانب سے جاری ریسکیو اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ شدید موسمی حالات کے باوجود مسافروں کو بحفاظت نکالنا، میتوں کو نکال کر لواحقین کے حوالے کرنا اور پھنسے ہوئے سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا بڑ کٹھن کام ہے۔ مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ہم ہر بار صرف ہنگامی ردِعمل تک محدود رہیں گے؟ اس صورتحال نے بالائی علاقوں میں بسنے والی آبادی کی سماجی اور معاشی کمزوریوں کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ دیہی اور پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگ پہلے ہی محدود سہولتیں، کم آمدنی اور کمزور صحت و تعلیم کے نظام کا سامنا کر رہے ہیں۔ شدید برفباری کے باعث روزگار کے ذرائع منقطع ہونا، بازاروں تک رسائی ختم ہونا اور علاج معالجے کی سہولتیں دستیاب نہ رہنا ان مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ خاص طور پر بزرگ، بچے اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد اس صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ موسمی شدت کے باوجود مقامی سطح پر ڈیزاسٹر رسپانس یونٹس کی استعداد انتہائی محدود دکھائی دیتی ہے۔ اگر ابتدائی سطح پر برف ہٹانے، ایمرجنسی شیلٹرز، موبائل ہیلتھ یونٹس اور متبادل مواصلاتی نظام مؤثر ہوں تو بڑے پیمانے پر فوج اور مرکزی اداروں کو مداخلت کی ضرورت کم پڑ سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ضلعی انتظامیہ کو محض احکامات کا منتظر رکھنے کے بجائے وسائل اور اختیارات فراہم کیے جائیں۔ سیاحت کے فروغ کے دعووں کے ساتھ یہ سوال بھی جڑا ہوا ہے کہ آیا سیاحتی علاقوں میں ایمرجنسی مینجمنٹ کے تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں یا نہیں۔ کاغان، کمراٹ، ناران اور دیوسائی جیسے مقامات پر ہر سال سیاح پھنسنے کے واقعات اس امر کی علامت ہیں کہ موسمی خطرات کے مطابق انفرا اسٹرکچر اور بروقت معلومات کی فراہمی ابھی ناکافی ہے۔ سیاحت کو معیشت کا ستون بنانے سے پہلے انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دینا ناگزیر ہے۔ مظفرآباد میں کئی سال بعد برفباری، وادی نیلم میں مکانات کا منہدم ہونا، شاہراہ قراقرم کی بندش اور استور، ہنزہ، نگر اور چیپورسن جیسے علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہونا ظاہر کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا مسئلہ بن چکی ہے۔ ان حالات میں بجلی کے پولز کا گر جانا اور تاروں کا ٹوٹ جانا ہمارے کمزور انفرا اسٹرکچر کی ایک اور جھلک ہے۔ خیبر پختون خوا میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی اور گلگت بلتستان میں اشیائے ضروریہ کی ترسیل متاثر ہونا بروقت اقدامات ضرور ہیں، مگر مستقل حل نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بالائی علاقوں کے لیے جامع سرمائی حکمت ِ عملی مرتب کی جائے، جس میں پیشگی ذخیرہ اندوزی، متبادل توانائی ذرائع، مضبوط مواصلاتی نظام اور جدید برف ہٹانے کی مشینری کی دستیابی شامل ہو۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا، مگر ان کے اثرات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ اگر ہر سال ایک ہی نوعیت کے مسائل کا سامنا ہو تو یہ قدرتی نہیں بلکہ انتظامی ناکامی بن جاتی ہے۔ حکومت، صوبائی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ اس صورتحال سے سبق سیکھیں اور موسمی خطرات کو قومی منصوبہ بندی کا مستقل حصہ بنائیں۔ شدید برفباری نے ایک بار پھر یہ پیغام دیا ہے کہ بدلتے موسم کے ساتھ ہمیں بھی اپنی سوچ، منصوبہ بندی اور ترجیحات بدلنی ہوں گی۔ بصورتِ دیگر ہر سردی میں یہی مناظر، یہی مشکلات اور یہی سوالات ہمارے سامنے کھڑے رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بالائی علاقوں علاقوں میں ہر سال
پڑھیں:
کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
کراچی:شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے افسوسناک حادثات کے نتیجے میں تین افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق بلوچ کالونی کے علاقے کشمیر کالونی نالے والے روڈ پر نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے ایک 20 سالہ راہگیر جاں بحق ہوگیا۔
اطلاع ملنے پر چھیپا کے رضاکار موقع پر پہنچے اور لاش کو جناح اسپتال منتقل کیا جہاں متوفی کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
دوسرا واقعہ ایف سی ایریا کے ایک اپارٹمنٹ میں پیش آیا جہاں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔
چھیپا حکام کے مطابق متوفی کی لاش عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی جہاں اس کی شناخت 40 سالہ اظہر احمد کے نام سے ہوئی۔
ادھر قیوم آباد میں جام صادق پل پر تیز رفتار ٹریلر کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
ریسکیو اہلکاروں نے لاش کو جناح اسپتال منتقل کیا جہاں متوفی کی شناخت 40 سالہ شکیل کے نام سے کی گئی۔