Jasarat News:
2026-07-24@08:09:24 GMT

ہر سال برف، ہر سال بے بسی

اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260125-03-2
ملک کے بالائی علاقوں میں حالیہ شدید برفباری اور سخت سرد موسم نے ایک بار پھر ہمارے ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام، بنیادی ڈھانچے اور پیشگی تیاریوں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ آزاد کشمیر، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے متعدد اضلاع میں کئی کئی فٹ برف پڑنے سے نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے، رابطہ سڑکیں بند، بجلی کی فراہمی معطل اور سیکڑوں افراد محصور ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال کسی اچانک آفت سے زیادہ ایک متوقع بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس کے لیے تیاری کا فقدان واضح دکھائی دیتا ہے۔ ہر سال موسمِ سرما میں بالائی علاقوں میں برفباری ایک معمول کا حصہ ہے، مگر اس کے باوجود سڑکوں کی بندش، اشیائے خورو نوش کی قلت، بجلی کے نظام کا درہم برہم ہونا اور ہنگامی حالات میں ایمبولینسوں کا پھنس جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم اب تک موسمی خطرات کو سنجیدگی سے منصوبہ بندی کا حصہ نہیں بنا سکے۔ آزاد کشمیر کے ضلع حویلی میں ایمبولینس سمیت درجنوں گاڑیوں کا برف میں پھنس جانا اور خواتین و بچوں کا گھنٹوں محصور رہنا ایک لمحہ ٔ فکر ہے۔ تاہم اس مشکل گھڑی میں انتظامیہ کی جانب سے جاری ریسکیو اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ شدید موسمی حالات کے باوجود مسافروں کو بحفاظت نکالنا، میتوں کو نکال کر لواحقین کے حوالے کرنا اور پھنسے ہوئے سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا بڑ کٹھن کام ہے۔ مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ہم ہر بار صرف ہنگامی ردِعمل تک محدود رہیں گے؟ اس صورتحال نے بالائی علاقوں میں بسنے والی آبادی کی سماجی اور معاشی کمزوریوں کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ دیہی اور پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگ پہلے ہی محدود سہولتیں، کم آمدنی اور کمزور صحت و تعلیم کے نظام کا سامنا کر رہے ہیں۔ شدید برفباری کے باعث روزگار کے ذرائع منقطع ہونا، بازاروں تک رسائی ختم ہونا اور علاج معالجے کی سہولتیں دستیاب نہ رہنا ان مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ خاص طور پر بزرگ، بچے اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد اس صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ موسمی شدت کے باوجود مقامی سطح پر ڈیزاسٹر رسپانس یونٹس کی استعداد انتہائی محدود دکھائی دیتی ہے۔ اگر ابتدائی سطح پر برف ہٹانے، ایمرجنسی شیلٹرز، موبائل ہیلتھ یونٹس اور متبادل مواصلاتی نظام مؤثر ہوں تو بڑے پیمانے پر فوج اور مرکزی اداروں کو مداخلت کی ضرورت کم پڑ سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ضلعی انتظامیہ کو محض احکامات کا منتظر رکھنے کے بجائے وسائل اور اختیارات فراہم کیے جائیں۔ سیاحت کے فروغ کے دعووں کے ساتھ یہ سوال بھی جڑا ہوا ہے کہ آیا سیاحتی علاقوں میں ایمرجنسی مینجمنٹ کے تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں یا نہیں۔ کاغان، کمراٹ، ناران اور دیوسائی جیسے مقامات پر ہر سال سیاح پھنسنے کے واقعات اس امر کی علامت ہیں کہ موسمی خطرات کے مطابق انفرا اسٹرکچر اور بروقت معلومات کی فراہمی ابھی ناکافی ہے۔ سیاحت کو معیشت کا ستون بنانے سے پہلے انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دینا ناگزیر ہے۔ مظفرآباد میں کئی سال بعد برفباری، وادی نیلم میں مکانات کا منہدم ہونا، شاہراہ قراقرم کی بندش اور استور، ہنزہ، نگر اور چیپورسن جیسے علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہونا ظاہر کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا مسئلہ بن چکی ہے۔ ان حالات میں بجلی کے پولز کا گر جانا اور تاروں کا ٹوٹ جانا ہمارے کمزور انفرا اسٹرکچر کی ایک اور جھلک ہے۔ خیبر پختون خوا میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی اور گلگت بلتستان میں اشیائے ضروریہ کی ترسیل متاثر ہونا بروقت اقدامات ضرور ہیں، مگر مستقل حل نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بالائی علاقوں کے لیے جامع سرمائی حکمت ِ عملی مرتب کی جائے، جس میں پیشگی ذخیرہ اندوزی، متبادل توانائی ذرائع، مضبوط مواصلاتی نظام اور جدید برف ہٹانے کی مشینری کی دستیابی شامل ہو۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا، مگر ان کے اثرات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ اگر ہر سال ایک ہی نوعیت کے مسائل کا سامنا ہو تو یہ قدرتی نہیں بلکہ انتظامی ناکامی بن جاتی ہے۔ حکومت، صوبائی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ اس صورتحال سے سبق سیکھیں اور موسمی خطرات کو قومی منصوبہ بندی کا مستقل حصہ بنائیں۔ شدید برفباری نے ایک بار پھر یہ پیغام دیا ہے کہ بدلتے موسم کے ساتھ ہمیں بھی اپنی سوچ، منصوبہ بندی اور ترجیحات بدلنی ہوں گی۔ بصورتِ دیگر ہر سردی میں یہی مناظر، یہی مشکلات اور یہی سوالات ہمارے سامنے کھڑے رہیں گے۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بالائی علاقوں علاقوں میں ہر سال

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع