پاکستان علما کونسل کا افغان حکومت کے نئے فوجداری ضابطے پر تشویش کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
پاکستان علما کونسل نے افغان حکومت کے نئے فوجداری ضابطے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان علما کونسل نے افغان حکومت کے احکامات پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ شریعت اسلامیہ کےنام پرمعاشرےکوغلام اور آزاد میں تقسیم کرنا قابل تشویش ہے، افغان حکومت کےاحکامات قرآن و سنت کےاحکامات کےمطابق نہیں ہیں اور ہندواتہ تعلیمات کے مشابہ ہے۔ پاکستان علماکونسل نے کہا کہ افغان طالبان حکومت اپنے آپ کوشرعی اسلامی حکومت قراردیتی ہے، اسے ان امورپراپناموقف فوری طورپر دنیا کے سامنےلانا چاہیے، عہد جاہلیت کےقوانین اور رسومات کو دوبارہ اسلام کےنام پر نافذ نہیں کرناچاہیے۔ پاکستان علماکونسل کے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ جو انداز اختیارکیاگیاہےاس سےانسانیت کی توہین اورتذلیل سامنے آتی ہے، اس طرح کےاحکامات کوشرعی نہیں، جدیدجاہلیت کا دور ہی کہا جاسکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: افغان حکومت کے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔