پاکستان علما کونسل کا افغان حکومت کے نئے فوجداری ضابطے پر تشویش کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
پاکستان علما کونسل نے افغان حکومت کے نئے فوجداری ضابطے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان علما کونسل نے افغان حکومت کے احکامات پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ شریعت اسلامیہ کےنام پرمعاشرےکوغلام اور آزاد میں تقسیم کرنا قابل تشویش ہے، افغان حکومت کےاحکامات قرآن و سنت کےاحکامات کےمطابق نہیں ہیں اور ہندواتہ تعلیمات کے مشابہ ہے۔ پاکستان علماکونسل نے کہا کہ افغان طالبان حکومت اپنے آپ کوشرعی اسلامی حکومت قراردیتی ہے، اسے ان امورپراپناموقف فوری طورپر دنیا کے سامنےلانا چاہیے، عہد جاہلیت کےقوانین اور رسومات کو دوبارہ اسلام کےنام پر نافذ نہیں کرناچاہیے۔ پاکستان علماکونسل کے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ جو انداز اختیارکیاگیاہےاس سےانسانیت کی توہین اورتذلیل سامنے آتی ہے، اس طرح کےاحکامات کوشرعی نہیں، جدیدجاہلیت کا دور ہی کہا جاسکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: افغان حکومت کے
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
قابض افغان طالبان رجیم کیخلاف افغانستان کے مختلف صوبوں میں آزادی پسند تحریکیں زور پکڑ گئیں.
بدخشان میں چندماہ میں دوسرےضلعی گورنرکی ہٹ دھرمی پرمبنی برطرفی نےطالبان کےاندرونی خلفشارکوآشکارکردیا۔
افغان میڈیا کے مطابق طالبان رجیم کیخلاف نئے مسلح گروہ سپاہیان میہن نے بدخشان کے ضلع یفتلی سفلی پرقبضہ کرکےاپنی موجودگی کا باضابطہ اعلان کر دیا
یہ گروہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنےوالےافراد پرمشتمل ہے جن میں سابق سیکیورٹی اہلکاراورمقامی باشندےشامل ہیں۔
ساؤتھ ایشیا ٹیررزم پورٹل کی رپورٹ کے مطابق طالبان اور جمعہ خان فاتح کے درمیان اختلافات ختم نہیں ہوئے،بدخشان میں ان کےحامیوں اورطالبان قیادت کےدرمیان کشیدگی برقرارہے۔
بدخشان میں اندرونی کشیدگی بھی عروج پر،ضلعی گورنرقاری مطیع الرحمان کوتقرری کےایک ہفتےبعدہی عہدے سےہٹا دیا گیا، طالبان مخالف گروہوں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اورافغانستان فریڈم فرنٹ بھی بدخشاں سمیت افغانستان کے کئی صوبوں میں سرگرم ہیں۔
افغان مزاحمتی تنظیم نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نےایکس اکاونٹ پرمزاحمتی فورسزکی نئی ویڈیواپ لوڈکردی۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کےایکس پراپ لوڈ ویڈیومیں طالبان مخالف فورسزکواہم علاقےمیں گشت کرتےہوئےدیکھاجاسکتا ہے۔