سانحہ گل پلازہ: جاں بحق افراد کی تعداد 73 تک پہنچ گئی، 82 تاحال لاپتا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
کراچی کے مرکزی کاروباری علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں 17 جنوری کو پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے سانحے کے بعد ریسکیو اور سرچ آپریشن اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ نے خطرناک حد تک مخدوش قرار دی جانے والی عمارت کو آج مکمل طور پر سیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد 73 تک جا پہنچی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ گزشتہ نو سے دس روز کے دوران ملبے سے لاشوں اور انسانی باقیات کی تلاش کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور اب مزید لاشیں ملنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں، احتیاطی تدبیر کے طور پر سروے ٹیم ایک بار پھر عمارت کا معائنہ کرے گی، تاہم مجموعی طور پر سرچ آپریشن کو تقریباً مکمل تصور کیا جا رہا ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سانحے میں جاں بحق ہونے والے 73 افراد کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں سے کئی کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ممکن بنائی گئی۔ لاپتا افراد کی فہرست 82 تک پہنچ گئی ہے،
رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 23 لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے، جن میں 16 کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ممکن ہوئی، اب تک 2 خواتین سمیت 22 میتیں ورثاء کے حوالے کی جاچکی ہیں، اب تک 55 خاندان ڈی این اے نمونے جمع کرا چکے ہیں، جبکہ باقی خاندانوں کو مقررہ مدت دی گئی ہے تاکہ شناخت کا عمل پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 جاں بحق افراد کا مکمل ڈیٹا صوبائی حکومت کو ارسال کر دیا گیا ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جا سکے، جبکہ جلد ہی ورثا میں امدادی چیک تقسیم کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ 13 افراد کی ہلاکت سے متعلق کیے گئے دعوے بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں، بارہا رابطے کے باوجود بعض خاندانوں کی جانب سے ڈی این اے نمونے فراہم نہ کیے جانے کے باعث شناخت کا عمل بھی تاخیر کا شکار ہے۔
دوسری جانب پولیس نے واقعے سے متعلق قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، گل پلازہ میں آتشزدگی کا مقدمہ تھانہ نبی بخش میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے، جس کے بعد گواہوں اور متعلقہ عملے کے بیانات قلم بند کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک چھ سیکیورٹی گارڈز سمیت متعدد افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں اور اگر تحقیقات کے دوران غفلت یا لاپرواہی ثابت ہوئی تو ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ادھر سانحے کی تکنیکی اور فارنزک تحقیقات کے لیے لاہور سے ماہرین پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم کراچی پہنچی، جس نے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ عمارت کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا، تقریباً 80 سے 90 فیصد سرچنگ مکمل کی جا چکی ہے جبکہ ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا عمل بھی جاری رہا۔
واضح رہے کہ گل پلازہ میں گزشتہ ہفتے اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی، جس کے نتیجے میں تقریباً 1200 دکانیں جل کر خاک ہو گئیں اور درجنوں افراد جان کی بازی ہار گئے، فائر فائٹرز نے 33 گھنٹے بعد آگ پر مکمل طور پر قابو پایا تھا۔ اس دلخراش واقعے کے بعد کراچی بھر میں تجارتی عمارتوں کی حفاظت، فائر سیفٹی انتظامات اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں، جن کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ڈی این اے گل پلازہ افراد کی گیا ہے کا عمل
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔