متحدہ عرب امارات کا ایران پر ممکنہ امریکی حملے میں تعاون سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران پر کسی ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے لیے اپنی سرزمین، فضائی حدود یا سمندری پانیوں کو استعمال نہیں ہونے دے گا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کسی بھی فوجی آپریشن کی صورت میں کسی کو بھی لاجسٹیکل اسپورٹ یا دیگر فوجی سہولت فراہم نہیں کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: امریکی جنگی جہازوں پر مشتمل بحری بیڑا مشرق وسطیٰ پہنچ گیا، ایران کا واشنگٹن کو انتباہ
بیان میں زور دیا گیا کہ موجودہ کشیدہ صورتحال کا حل صرف کشیدگی میں کمی، مذاکرات، بین الاقوامی قوانین کی پابندی اور ریاستوں کی خودمختاری کے احترام میں ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی بحری بیڑا یو ایس ایس ابراہم لنکن خلیجی پانیوں میں پہنچ چکا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ بیڑا ممکنہ طور پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں استعمال ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر نے اس سے قبل خطے میں آرمیڈا بھیجے جانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ایران کی صورتحال پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے۔
مزید پڑھیں: مظاہروں کے دوران امریکا ایران کیخلاف فوجی اقدامات پر غور کررہا ہے، سی این این کا دعویٰ
دوسری جانب ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ ان کی نظر ہدف پر مرکوز ہے اور اگلے اقدامات کے لیے صرف روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کے اشارے کا انتظار ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران پر ممکنہ حملہ تعاون سے انکار وی نیوز یو ای اے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ایران پر ممکنہ حملہ تعاون سے انکار وی نیوز یو ای اے کا ایران
پڑھیں:
امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔
U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔