Jasarat News:
2026-07-24@09:48:49 GMT

امریکا کے جنگی عزائم!

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہوچکی ہے، ایک طرف امریکا نے اپنے جنگی جہاز ایران کی طرف روانہ کردیے ہیں تو دوسری طرف امریکی سینٹ کام کمانڈر اچانک اسرائیل پہنچ گئے ہیں تاکہ وہاں کے سینئر دفاعی حکام کے ساتھ مشرق وسطیٰ کی تناظر میں تعاون، فوجی رابطے اور ممکنہ سیکورٹی حکمت ِ عملی پر تبادلہ خیال کریں۔ یہ دورہ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ خطے میں فوجی نقل و حرکت تیز ہے اور امریکا اپنے اتحادیوں سے تبادلہ ٔ خیال بڑھا رہا ہے۔ ایران کی جانب روانہ کی جانے والی بڑی فورس میں جنگی بحری جہاز اور طیارے بھی شامل ہیں، غیر ملکی میڈیا نے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک کیریئر اسٹرائیک گروپ اور دیگر فوجی مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ ہوچکے ہیں اور ان میں طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن، جنگی بحری جہاز اور جنگی طیارے شامل ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تہران پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، احتیاطی طور پر فورس تعینات کی جارہی ہے، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے جبکہ پاسداران انقلاب گارڈز کے سربراہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں فوری جواب دیں گے، دشمن غلط فہمی میں نہ رہیں، ہمارا ہاتھ ہتھیاروں کے ٹریگر پر ہے، امریکا اور اسرائیل کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہماری طاقت کے حوالے سے غلط اندازے لگانے کا نتیجہ ان کے لیے اچھا نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دشمنوں کو 12 روزہ جنگ کے بعد کم ازکم اتنا اندازہ تو ہوگیا ہوگا کہ ہم پر حملے کی صورت میں انہیں درناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کا انہی کو بعد میں پچھتاوا ہوگا۔ انہوں کہا کہ ماضی کے مقابلے میں ایرانی افواج پہلے سے زیادہ بہتر طور پر تیار ہیں اور صہیونی ریاست یا امریکا نے کوئی سازش کی تو اس کا جواب دیا جائے گا۔ پیش آمدہ صورتحال پر ایران نے واضح طور پر دو ٹوک وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان پر حملہ ہوا تو یہ مکمل جنگ ہوگی اور وہ بدترین صورتحال کے لیے تیار ہیں۔ ادھر ایران سے متعلق یہ افواہ اڑائی جارہی ہے کہ ایران نے خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور ایران و امریکا کے درمیان تناؤ کے پیش نظر اپنی فضائی حدود کو سویلین پروازوں کے لیے بند کردیا ہے جس پرایرانی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے ترجمان نے واضح کیا کہ ’’ایران کی فضائی حدود کو بند کرنے کے حوالے سے جو خبریں پھیلائی جا رہی ہیں وہ محض افواہیں ہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں ہے، ملک بھر کے تمام ہوائی اڈوں پر فلائٹ آپریشنز معمول کے مطابق جاری ہیں اور فضائی ٹریفک میں کوئی رکاوٹ یا تبدیلی نہیں کی گئی‘‘۔ ایران کی جانب بحری بیڑے کی روانگی پر امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اس تعیناتی کا مقصد ایران کو مناسب رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرنا ہے لیکن وہ فوجی تصادم سے گریز کی کوشش بھی کر رہے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل وہ ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے اشارے بھی دے چکے ہیں۔ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں ایران کے حوالے سے اپنے ’’سخت ترین‘‘ موقف میں تھوڑی نرمی دکھائی ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ براہِ راست تصادم کے بجائے مذاکرات یا معاہدے کو ترجیح دے سکتے ہیں، تاہم وہ ’’طاقت کے ذریعے امن کی پالیسی پر قائم ہیں‘‘۔ ٹرمپ کے لب ولہجے میں اس تبدیلی کو ایران نے ’’نفسیاتی جنگ‘‘ قرار دیا ہے۔ ٹرمپ کے اس تضاد پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ دو طرفہ حکمت عملی اپنا رہی ہے۔ ایک طرف فوجی طاقت کا مظاہرہ کر کے ایران پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، اور دوسری طرف سفارت کاری کا دروازہ کھلا رکھنے کی بات کی جا رہی ہے تاکہ ایران کو نئی شرائط پر مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ پنٹاگون کا موقف ہے کہ یہ تعیناتیاں صرف دفاعی مقصد کے لیے ہیں تاکہ اسرائیل اور خطے میں موجود دیگر امریکی اتحادیوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور تیل کی عالمی ترسیل کے راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قول و فعل کے تضاد سے امریکا پر بھروسا کرنے والے کمزور ممالک کے رہے سہے اعتماد کو بھی خاک میں ملا دیا ہے، ایک طرف وہ دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ امن کے داعی ہیں، دنیا میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں، ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہوں نے پانچ بین الاقوامی جنگیں رکوا کر دنیا میں امن قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور اس اعلیٰ کارکردگی پر انہیں نوبل امن انعام دیا جانا چاہیے تھا۔ وہ غزہ میں امن کے لیے ’’بورڈ آف پیس‘‘ نامی ادارہ بھی قائم کر چکے ہیں، مگر اس امر کی حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ امریکی صدر اپنے اقدامات اور من مانے فیصلوں سے یہ بات ثابت کر رہے ہیں کہ وہ کسی اصول، قاعدے، قانون اور ضابطے کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں، اس امر کا اظہار وہ کھلے بندوں بھی کرچکے ہیں کہ ’’مجھے کوئی قانون روک نہیں سکتا، صرف میری اخلاقیات مجھے روک سکتی ہے‘‘۔ امریکی صدر کے اس نوع کے بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی بین الاقوامی قانون، اصول اور ضابطے حتیٰ کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی بھی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔ امریکا نے 78 سال کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے بھی باضابطہ طور پر دستبرداری اختیار کر لی ہے، جس سے امریکا کا ڈبلیو ایچ او کے ساتھ عملی تعلق بالکل ختم ہو گیا ہے۔ ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ کی موجودگی کے باوجود بورڈ آف پیس نامی ادارہ قائم کر کے اپنے عزائم کو طشت ِ ازبام کردیا ہے، یہی وجہ ہے کہ بڑے ممالک نے اس بورڈ میں شمولیت سے گریز کی راہ اپنائی ہے۔ چین نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا کے قائم کردہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں شامل نہیں ہوگا، چین کا کہنا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے نظام کو مرکزی حیثیت دینے اور بین الاقوامی قانون و اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں پر قائم رہنے کا پابند ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر امریکا کو ایران سے تکلیف کیا ہے؟ آخر کیوں وہ ایران پر حملے کے لیے پر تول رہا ہے؟۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا ایران کو اپنے اس عالمی نظام کے لیے چیلنج سمجھتا ہے وہ کلی طور پر حکمرانی کا خواہاں ہے، امریکا پوری دنیا پر اپنی ایسی دھاک بٹھانا چاہتا ہے کہ کسی بھی ملک کواس کے سامنے سر اٹھانے کا یارا نہ ہو۔ ایران کا جرم محض یہ ہے کہ وہ دنیا کے مہذب ملکوں میں ایک آزاد اور خودمختار ملک کے طور پر جینا چاہتا، وہ اپنا دفاع اور سلامتی کا حق چاہتا ہے، ایران معاشی ترقی اور برابری کی سطح پر تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے، خود مختار ایران امریکا کو کسی طور گوارا نہیں، ایران ہی نہیں امریکا کو ہر ایسے ملک سے شکایت ہے جو اس کے احکامات کا نظر انداز کرے، جوامریکی کیمپ میں شامل نہ ہو اور آزادانہ اپنی خارجہ، معاشی اور دفاعی پالیسی مرتب کرے۔ ایرن انہی ممالک میں شامل ہے جو کسی بھی طور امریکی جبر کے آگے جھکنے کے لیے تیار نہیں، علاوہ ازیں امریکا کسی بھی طور ایران کو خطے کی ایک طاقتور ریاست کے طور پر ابھرتا نہیں دیکھنا چاہتا، اسرائیل کی دفاع اور سلامتی امریکا کی اولین ترجیح ہے اور امریکا سمجھتا ہے کہ خطے میں ایران ہی وہ قوت ہے جو اسرائیل کے ناجائز وجود کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ امریکا کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ طاقت کے زور پر کسی کو زیر نہیں کیا جاسکتا، ایران پر حملہ پورے خطے کو آتش فشاں میں تبدیل کرے گا اور خطے میں قیام ِ امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ امریکی صدر امریکا کو ایران کی ایران کو یہ ہے کہ ہے کہ وہ ہیں اور کسی بھی ہے کہ ا رہا ہے کے لیے دیا ہے ہیں کہ

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران