Jasarat News:
2026-06-02@22:40:16 GMT

امریکا کے جنگی عزائم!

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہوچکی ہے، ایک طرف امریکا نے اپنے جنگی جہاز ایران کی طرف روانہ کردیے ہیں تو دوسری طرف امریکی سینٹ کام کمانڈر اچانک اسرائیل پہنچ گئے ہیں تاکہ وہاں کے سینئر دفاعی حکام کے ساتھ مشرق وسطیٰ کی تناظر میں تعاون، فوجی رابطے اور ممکنہ سیکورٹی حکمت ِ عملی پر تبادلہ خیال کریں۔ یہ دورہ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ خطے میں فوجی نقل و حرکت تیز ہے اور امریکا اپنے اتحادیوں سے تبادلہ ٔ خیال بڑھا رہا ہے۔ ایران کی جانب روانہ کی جانے والی بڑی فورس میں جنگی بحری جہاز اور طیارے بھی شامل ہیں، غیر ملکی میڈیا نے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک کیریئر اسٹرائیک گروپ اور دیگر فوجی مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ ہوچکے ہیں اور ان میں طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن، جنگی بحری جہاز اور جنگی طیارے شامل ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تہران پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، احتیاطی طور پر فورس تعینات کی جارہی ہے، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے جبکہ پاسداران انقلاب گارڈز کے سربراہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں فوری جواب دیں گے، دشمن غلط فہمی میں نہ رہیں، ہمارا ہاتھ ہتھیاروں کے ٹریگر پر ہے، امریکا اور اسرائیل کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہماری طاقت کے حوالے سے غلط اندازے لگانے کا نتیجہ ان کے لیے اچھا نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دشمنوں کو 12 روزہ جنگ کے بعد کم ازکم اتنا اندازہ تو ہوگیا ہوگا کہ ہم پر حملے کی صورت میں انہیں درناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کا انہی کو بعد میں پچھتاوا ہوگا۔ انہوں کہا کہ ماضی کے مقابلے میں ایرانی افواج پہلے سے زیادہ بہتر طور پر تیار ہیں اور صہیونی ریاست یا امریکا نے کوئی سازش کی تو اس کا جواب دیا جائے گا۔ پیش آمدہ صورتحال پر ایران نے واضح طور پر دو ٹوک وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان پر حملہ ہوا تو یہ مکمل جنگ ہوگی اور وہ بدترین صورتحال کے لیے تیار ہیں۔ ادھر ایران سے متعلق یہ افواہ اڑائی جارہی ہے کہ ایران نے خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور ایران و امریکا کے درمیان تناؤ کے پیش نظر اپنی فضائی حدود کو سویلین پروازوں کے لیے بند کردیا ہے جس پرایرانی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے ترجمان نے واضح کیا کہ ’’ایران کی فضائی حدود کو بند کرنے کے حوالے سے جو خبریں پھیلائی جا رہی ہیں وہ محض افواہیں ہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں ہے، ملک بھر کے تمام ہوائی اڈوں پر فلائٹ آپریشنز معمول کے مطابق جاری ہیں اور فضائی ٹریفک میں کوئی رکاوٹ یا تبدیلی نہیں کی گئی‘‘۔ ایران کی جانب بحری بیڑے کی روانگی پر امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اس تعیناتی کا مقصد ایران کو مناسب رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرنا ہے لیکن وہ فوجی تصادم سے گریز کی کوشش بھی کر رہے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل وہ ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے اشارے بھی دے چکے ہیں۔ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں ایران کے حوالے سے اپنے ’’سخت ترین‘‘ موقف میں تھوڑی نرمی دکھائی ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ براہِ راست تصادم کے بجائے مذاکرات یا معاہدے کو ترجیح دے سکتے ہیں، تاہم وہ ’’طاقت کے ذریعے امن کی پالیسی پر قائم ہیں‘‘۔ ٹرمپ کے لب ولہجے میں اس تبدیلی کو ایران نے ’’نفسیاتی جنگ‘‘ قرار دیا ہے۔ ٹرمپ کے اس تضاد پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ دو طرفہ حکمت عملی اپنا رہی ہے۔ ایک طرف فوجی طاقت کا مظاہرہ کر کے ایران پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، اور دوسری طرف سفارت کاری کا دروازہ کھلا رکھنے کی بات کی جا رہی ہے تاکہ ایران کو نئی شرائط پر مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ پنٹاگون کا موقف ہے کہ یہ تعیناتیاں صرف دفاعی مقصد کے لیے ہیں تاکہ اسرائیل اور خطے میں موجود دیگر امریکی اتحادیوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور تیل کی عالمی ترسیل کے راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قول و فعل کے تضاد سے امریکا پر بھروسا کرنے والے کمزور ممالک کے رہے سہے اعتماد کو بھی خاک میں ملا دیا ہے، ایک طرف وہ دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ امن کے داعی ہیں، دنیا میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں، ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہوں نے پانچ بین الاقوامی جنگیں رکوا کر دنیا میں امن قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور اس اعلیٰ کارکردگی پر انہیں نوبل امن انعام دیا جانا چاہیے تھا۔ وہ غزہ میں امن کے لیے ’’بورڈ آف پیس‘‘ نامی ادارہ بھی قائم کر چکے ہیں، مگر اس امر کی حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ امریکی صدر اپنے اقدامات اور من مانے فیصلوں سے یہ بات ثابت کر رہے ہیں کہ وہ کسی اصول، قاعدے، قانون اور ضابطے کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں، اس امر کا اظہار وہ کھلے بندوں بھی کرچکے ہیں کہ ’’مجھے کوئی قانون روک نہیں سکتا، صرف میری اخلاقیات مجھے روک سکتی ہے‘‘۔ امریکی صدر کے اس نوع کے بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی بین الاقوامی قانون، اصول اور ضابطے حتیٰ کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی بھی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔ امریکا نے 78 سال کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے بھی باضابطہ طور پر دستبرداری اختیار کر لی ہے، جس سے امریکا کا ڈبلیو ایچ او کے ساتھ عملی تعلق بالکل ختم ہو گیا ہے۔ ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ کی موجودگی کے باوجود بورڈ آف پیس نامی ادارہ قائم کر کے اپنے عزائم کو طشت ِ ازبام کردیا ہے، یہی وجہ ہے کہ بڑے ممالک نے اس بورڈ میں شمولیت سے گریز کی راہ اپنائی ہے۔ چین نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا کے قائم کردہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں شامل نہیں ہوگا، چین کا کہنا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے نظام کو مرکزی حیثیت دینے اور بین الاقوامی قانون و اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں پر قائم رہنے کا پابند ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر امریکا کو ایران سے تکلیف کیا ہے؟ آخر کیوں وہ ایران پر حملے کے لیے پر تول رہا ہے؟۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا ایران کو اپنے اس عالمی نظام کے لیے چیلنج سمجھتا ہے وہ کلی طور پر حکمرانی کا خواہاں ہے، امریکا پوری دنیا پر اپنی ایسی دھاک بٹھانا چاہتا ہے کہ کسی بھی ملک کواس کے سامنے سر اٹھانے کا یارا نہ ہو۔ ایران کا جرم محض یہ ہے کہ وہ دنیا کے مہذب ملکوں میں ایک آزاد اور خودمختار ملک کے طور پر جینا چاہتا، وہ اپنا دفاع اور سلامتی کا حق چاہتا ہے، ایران معاشی ترقی اور برابری کی سطح پر تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے، خود مختار ایران امریکا کو کسی طور گوارا نہیں، ایران ہی نہیں امریکا کو ہر ایسے ملک سے شکایت ہے جو اس کے احکامات کا نظر انداز کرے، جوامریکی کیمپ میں شامل نہ ہو اور آزادانہ اپنی خارجہ، معاشی اور دفاعی پالیسی مرتب کرے۔ ایرن انہی ممالک میں شامل ہے جو کسی بھی طور امریکی جبر کے آگے جھکنے کے لیے تیار نہیں، علاوہ ازیں امریکا کسی بھی طور ایران کو خطے کی ایک طاقتور ریاست کے طور پر ابھرتا نہیں دیکھنا چاہتا، اسرائیل کی دفاع اور سلامتی امریکا کی اولین ترجیح ہے اور امریکا سمجھتا ہے کہ خطے میں ایران ہی وہ قوت ہے جو اسرائیل کے ناجائز وجود کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ امریکا کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ طاقت کے زور پر کسی کو زیر نہیں کیا جاسکتا، ایران پر حملہ پورے خطے کو آتش فشاں میں تبدیل کرے گا اور خطے میں قیام ِ امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ امریکی صدر امریکا کو ایران کی ایران کو یہ ہے کہ ہے کہ وہ ہیں اور کسی بھی ہے کہ ا رہا ہے کے لیے دیا ہے ہیں کہ

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان