آئی سی سی نے بنگلادیشی صحافیوں کو ٹی 20 ورلڈکپ کی کوریج سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
آئی سی سی نے بنگلادیشی صحافیوں کو ٹی 20 ورلڈکپ کی کوریج سے روک دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 27 January, 2026 سب نیوز
دبئی (آئی پی ایس) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی کوریج کے لیے بنگلا دیشی صحافیوں کو ایکریڈیشن دینے سے انکار کر دیا۔
بنگلا دیشی میڈیا کے مطابق سری لنکا اور بھارت دونوں ملکوں میں بنگلا دیش کے کسی صحافی کو ایکریڈیشن نہیں دی گئی، کئی ایسے صحافی ہیں جن کی ایکریڈیشن ہو چکی تھی مگر بعد میں کینسل کر دی گئی۔
بنگلا دیش کے صحافی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایک صحافی کو 20 تاریخ کو ایکریڈیشن کے ہونے کی تصدیقی ای میل آئی مگر بعد میں ایکریڈیشن مسترد ہونے کی ای میل بھیج دی گئی۔
بنگلا دیش کے سینئر صحافی نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ٹیم نہیں بھی کھیلتی ہے تب بھی آئی سی سی ایسوسی ایٹ ممبرز کے صحافیوں کو ایگریڈیشن جاری کرتا ہے۔
بنگلا دیش کے اسپورٹس سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی تنظیموں نے جلد آئندہ کے لائحہ عمل کے اعلان کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں آئی سی سی کی جانب سے صحافیوں کو ایکریڈیشن نہ دینے کے معاملے پر کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔
دوسری جانب بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے میڈیا کمیٹی کے چیئرمین امزاد حسین نے صحافیوں کو ایکریڈیشن نہ ملنے کی تصدیق کر تے ہوئے بتایا کہ بنگلا دیش کے 130 سے 150 صحافیوں نے ایگریڈیشن کے لیے اپلائی کیا تھا۔
امزاد حسین نے کہا کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے بنگلا دیش کے تمام صحافیوں کے ایگریڈیشن مسترد کر دیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ آئی سی سی کی جانب سے اب تک بنگلا دیشی صحافیوں کو ایکریڈیشن نہ دینے کے معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی جس کے باعث تنازع مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
بنگلا دیشی صحافیوں کے ورلڈ کپ ایکریڈیشن کا معاملہ
دوسری جانب ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئی سی سی میڈیا نے صحافیوں کی نمائندہ تنظیم سے کووریج کرنے والے خواہشمند صحافیوں کی فہرست مانگ لی ہے۔
‘
ذرائع نے بتایا کہ بنگلا دیشی صحافیوں کے ایکریڈیشن کا پراسس دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق بنگلا دیشی صحافیوں نے پہلے بھارت میں تمام میچز کوور کرنے کے لیے اپلائی کیا تھا، بنگلا دیشی صحافیوں کو سری لنکا میں ہونیوالے میچز کیلئے ایکریڈیشن جاری کردیا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن مشرق وسطیٰ کی سمندری حدود میں داخل ہو گیا امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن مشرق وسطیٰ کی سمندری حدود میں داخل ہو گیا اسرائیل نے غزہ سے آخری یرغمالی کی باقیات برآمد کر لیں، جنگ بندی ایک نئے اور مشکل مرحلے میں داخل راولپنڈی: فیصل ٹاؤن ہاؤسنگ سکیم کے خلاف سخت قانونی کارروائی، مالک کے بھائی سمیت ایک ملزم گرفتار میلان سرمائی اولمپک گیمز کے لیے چینی وفد کا قیام چین کی چودہویں قومی عوامی کانگریس کے چوتھے اجلاس اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی چودہویں قومی کمیٹی کے چوتھے اجلاس کی کوریج... ائیرکرافٹ کیریئر ابراہم لنکن سمیت دیگر جنگی جہازوں پر مشتمل امریکی بحری بیڑہ مشرق وسطی پہنچ گیا
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: صحافیوں کو کی کوریج
پڑھیں:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں میڈیا انڈسٹری، پیکا قوانین اور صحافیوں کے فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سینیٹر عبدالشکور، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر جان محمد نے شرکت کی۔
کمیٹی کو این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
کمیٹی نے فلم "بلھا" میں حضرت بابا بلھ شاہ کے امن کے پیغام کی مبینہ غلط ترجمانی کا بھی نوٹس لیا، اور مشاہدہ کیا کہ فلم نے معروف صوفی بزرگ کی پرامن تعلیمات کو مرکزی کردار کے ذریعے تشدد اور بندوقوں سے جوڑ کر مسخ کیا ہے۔ اراکین نے اس بنیاد پر سوال اٹھایا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز نے اس فلم کی منظوری کس طرح دی۔ اگرچہ سنسر بورڈ کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ فلم پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز سے بھی منظور شدہ ہے، تاہم کمیٹی نے اس توجیہہ کو مسترد کر دیا۔ اراکین نے سنسر بورڈ کے ارکان کی تقرری کے معیار پر بھی سوال اٹھایا اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس طرح کی تقرریوں کے لیے ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار وضع کرے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
تفصیلی غوروخوض کے بعد، کمیٹی نے سفارش کی کہ فلم "بلھا" کے پروڈیوسرز کو کہا جائے کہ وہ اس کا نام تبدیل کریں اور وہ قابلِ اعتراض مکالمہ ہٹائیں جس میں مرکزی کردار نے خود کا موازنہ بابا بلھ شاہ سے کیا ہے، بصورت دیگر فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کی جائے جس میں یوٹیوب سے اس کا ممکنہ اخراج بھی شامل ہو۔
کمیٹی کو وفاقی حکومت کے ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے فلیٹس اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ میڈیا ورکرز کے کوٹے کے تحت الاٹمنٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ صحافیوں کے کوٹے سے متعلق مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ اس طویل تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، کمیٹی نے اپنی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی اور مسئلے کے حل کو آسان بنانے کے لیے سینیٹرز پرویز رشید، وقار مہدی اور عبدالشکور پر مشتمل ایک مانیٹرنگ سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔
سینیٹر سرمد علی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ معاملے کا جائزہ لینے، موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر الاٹمنٹس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر صحافیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ کمیٹی نے مستقبل کی ہاؤسنگ سکیموں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کوٹے میں اضافے کی بھی سفارش کی اور ایک مخصوص ہاؤسنگ لون سکیم متعارف کرانے یا موجودہ وفاقی حکومت کے ہاؤسنگ فنانس کے اقدامات کے تحت صحافیوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) نے بھی کمیٹی کو علاقائی اخبارات کے اشتہاری کوٹے کے بارے میں بریفنگ دی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ پالیسی کے تحت سرکاری اشتہارات کا 25 فیصد حصہ علاقائی اخبارات کے لیے مخصوص ہے۔ تاہم، اراکین نے اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات کا نوٹس لیا، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان سے۔ قائم مقام چیئرمین نے پی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ 25 فیصد کوٹے کی سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے، جس میں عوامی سطح پر معلومات کی ترسیل میں ان کے اہم کردار کے اعتراف میں لسانی اخبارات بھی شامل ہوں۔
کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو درپیش مسائل پر بھی مزید تبادلہ خیال کیا۔ یہ بتایا گیا کہ 353 کمیوٹیشن کیسز تحال زیر التوا ہیں اور ریڈیو پاکستان وفاقی حکومت کے گران্ট-اِن-ایڈ کے ذریعے چل رہا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم پہلے ہی ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور اے پی پی سے متعلقہ بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔ قائم مقام چیئرمین نے ہدایت کی کہ ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مطالبات بھی وزیراعظم کی کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں اور اس معاملے کے جلد از جلد حل کا مطالبہ کیا۔
مزید :