فلپائن کے جنوبی صوبے مگینداناو ڈیل سور میں میئر اکمد مترا امپاتوان پر دن دہاڑے ایک پُرہجوم علاقے میں سنسنی خیز قاتلانہ حملہ کیا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حملہ آور ایک گاڑی میں سوار ہوکر آئے تھے اور پیٹرول پمپ کے نزدیک اتر کر میئر کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔

حملہ آوروں میں سے ایک نے کندھے پر راکٹ لانچر رکھا ہوا تھا جو میئر کی گاڑی پر چلادیا جب کہ دوسرے نے بندوق سے گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔

راکٹ لانچر چلانے سے میئر کی گاڑی کے نزدیک دھواں پھیل گیا تاہم ڈرائیور بڑی ہوشیاری کے ساتھ گاڑی کو اس میں سے نکالنے میں کامیاب رہا۔

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ گاڑی کے بکتر بند اور فائر پروف ہونے کی وجہ سے میئر حملے میں محفوظ رہے۔

https://www.

facebook.com/thedailynetizen/videos/cctv-catches-rpg-ambush-on-mayors-convoy-in-maguindanaocaught-on-camera-a-mayors/1956017475127807/

یاد رہے کہ میئر امپاتوان اس سے قبل بھی 2010، 2014 اور 2019 میں قاتلانہ حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ جن میں وہ دو بار شدید زخمی ہوئے تھے۔

ان حملوں کے پیش نظر ہی میئر کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی تھی اور ان کے زیر استعمال گاڑی کو بکتر بند کیا گیا تھا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آوروں نے ایک پٹرول پمپ کے قریب میئر کی بکتر بند سیاہ ایس یو وی پر راکٹ فائر کیا۔

میئر کے ایگزیکٹو سیکریٹری نے بتایا کہ بکتر بند گاڑی نے دھماکا خیز حملے کا زور برداشت کر لیا، جس کے باعث میئر محفوظ رہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر گاڑی بکتر بند نہ ہوتی تو میئر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔ پروردگار کے فضل سے انھیں ایک خراش تک نہیں آئی۔

ان کے بقول حملے کے دوران میئر کے قافلے میں شامل ایک بیک اپ پک اپ گاڑی پر بھی فائرنگ کی گئی، جس سے دو سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آور ایک سفید منی وین میں سوار تھے اور حملے کے بعد موقع سے فرار ہوگئے۔

یہ واقعہ ایک گنجان آباد علاقے میں پیش آیا جہاں سڑک کے کنارے دکاندار اور راہگیر موجود تھے۔ یہ سب کچھ عوام کی آنکھوں کے سامنے ہوا۔

واقعے کے فوری بعد پولیس اور فوج کی مشترکہ ٹیم نے تعاقب کے بعد ملزمان کو گھیرے میں لے لیا اور مقابلے میں تین مشتبہ حملہ آور مارے گئے۔ گاڑی سے اسلحہ بھی ملا۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بکتر بند میئر کی

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • طلاق کی افواہیں بے بنیاد؟ شہزادی بیٹریس کی شوہر کے ہمراہ نئی خوشگوار تصویر وائرل
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا