data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایم کیو ایم پاکستان نے سانحہ گل پلازہ پر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی پارٹی نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے مطالبے سے پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ، وزیر اطلاعات اور میئر کراچی کو واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ سانحہ گل پلازہ سے توجہ ہٹانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چاہے سندھ حکومت ایم کیو ایم رہنماؤں کی سکیورٹی واپس لے یا ان کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کرے، پارٹی متاثرینِ گل پلازہ کو انصاف دلا کر رہے گی۔

پارٹی نے گل پلازہ کے متاثرین کے حقوق کے لیے بھرپور آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں احتجاجی تحریک چلانے، اسمبلیوں میں معاملہ بھرپور انداز میں اٹھانے اور قانونی چارہ جوئی کے مختلف آپشنز پر بھی غور کیا گیا۔

اس سے قبل ایم کیو ایم رہنما مصطفیٰ کمال نے الزام عائد کیا تھا کہ سندھ حکومت نے ایم کیو ایم کے وفاقی وزرا اور رہنماؤں کی سکیورٹی واپس لے لی ہے۔

تاہم ذرائع کے مطابق خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال، فاروق ستار اور انیس قائم خانی کی سکیورٹی بعد ازاں بحال کر دی گئی ہے۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایم کیو ایم گل پلازہ ایم کی

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا