وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاک چین شراکت داری اعتماد اور طویل المدتی تعاون کی علامت ہے، سی پیک کے تحت چینی سرمایہ کاری نے پاکستان کے شعبہ توانائی میں اہم کردار ادا کیا، کان کنی کے شعبے میں چین کے تعاون سے ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔

پاک چین منرلز تعاون فورم سے خطاب کرتے ہوئے  وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 ویں سالگرہ کے موقع پر اس فورم میں شرکت میرے لئے اعزاز ہے، دونوں ملکوں نے گزشتہ چند دہائیوں کے دوران دوراندیشی، باہمی اعتماد اور طویل المدتی تعاون پر مبنی مضبوط اور مستحکم شراکت داری قائم کی جس کے نتیجے میں بالخصوص حالیہ برسوں میں پاکستان کی معیشت کے متعدد شعبوں میں ٹھوس اور نمایاں اثرات سامنے آئے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت چینی سرمایہ کاری نے توانائی کے متنوع منصوبوں کے ذریعے پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا جس سے پاکستان کو معاشی ترقی میں درپیش دیرینہ مسائل خصوصاً توانائی کی کمی پر قابو پانے،ماس ٹرانزٹ سلوشنز، جدید سڑکوں کے نیٹ ورک اورالیکٹرک موبیلٹی اقدامات میں بھرپور مدد ملی جس کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا بلکہ روزگار کے وسیع مواقع بھی پیدا ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ چین ان ابتدائی ممالک میں شامل تھاجنہوں نے معدنیات کے شعبے کی پاکستان کی سٹریٹجک اہمیت کو تسلیم کیا، چین نہ صرف نایاب ارضی عناصر بلکہ کریٹیکل منرلز ، کاپر ،سمیلٹنگ اور ریفائننگ میں عالمی سطح پر نمایاں حیثیت رکھتا ہے، سیندک کاپر گولڈ اور دودر منصوبے پاک چین مائننگ تعاون کی کامیاب مثالیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ تعاون مشترکہ منصوبہ جاتی کمپنیوں کے ذریعے مزید مضبوط ہوا ہے، چین کی کان کنی کی سرگرمیوں نے درآمدی متبادل، پاکستان کی توانائی سلامتی کے استحکام اور دور دراز علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں معاونت کی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جیولوجیکل سروے پاکستان اور چائنا جیولوجیکل سروس کے درمیان 2010 سے جاری طویل اور نتیجہ خیز شراکت داری پاکستان کے لیے اہم اثاثہ ہے، اس تعاون کے تحت پاکستان میں ملک گیر جیوکیمیکل سیمپلنگ کامیابی سے مکمل کی گئی جس نےمعدنیاتی علاقوں کی نشاندہی اور منظم تلاش کے لیے ایک جدید بنیاد فراہم کی، اس سنگِ میل کی بنیاد پر اب ہائی ریزولوشن سرویز اور مربوط جیو سائنسی پروگرامز کی جانب پیش رفت کی جا رہی ہے تاکہ پاکستان کی معدنی صلاحیت کو مزید بروئے کار لایا اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پائیدار کاروباری ماحول کی اصل علامت مقامی سرمایہ کاروں کا اعتماد ہوتا ہے ، پاکستانی کاروباری اداروں کی بڑھتی تعداد اب معدنیات کے شعبے میں داخل ہو رہی ہے اور بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے مواقع تلاش کر رہی ہے، اہم دریافتیں سامنے آ چکی ہیں اور یہ رفتار تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ صورتحال چینی کان کنی کمپنیوں، سروس فراہم کنندگان اور آلات ساز اداروں کے لیے پاکستان کے معدنی شعبے میں اپنے کردار کو مزید گہرا کرنے اور دونوں ممالک کے لیے باہمی فائدہ مند شراکت داریاں قائم کرنے کا ایک مضبوط موقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان سیاسی استحکام اور ذمہ دارانہ کان کنی سرمایہ کاری کے لیے مربوط معاونت کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے جس میں وفاقی و صوبائی ہم آہنگی اور مخصوص ادارہ جاتی معاونتی نظام شامل ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ توانائی کی منتقلی کے لیے تانبے اور دیگر اہم معدنیات کی عالمی طلب میں تیزی کے پیش نظر پاکستان اور چین خود کو عالمی معدنی سپلائی چین میں ایک قابلِ اعتماد طویل المدتی شراکت دار کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے وزیر اعظمِ محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل سید عاصم منیر اور حکومت کی جانب سے تمام چینی کمپنیوں اور یہاں موجود مندوبین کو پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 میں شرکت کی دعوت دی جو رواں سال 8 اور 9 اپریل کو منعقد ہوگا۔ انہوں نےکہا کہ یہ فورم پالیسی سازوں،ریگولیٹرز اور منصوبہ جاتی سپانسرز کے ساتھ منظم روابط کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔وفاقی وزیر نے اپنے خطاب کا اختتام پاکستان چین دوستی زندہ باد کے نعرے سے کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وفاقی وزیر نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی شراکت داری کان کنی کے شعبے پاک چین کے لیے رہی ہے

پڑھیں:

سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟

ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔

عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

متعلقہ مضامین

  • : نائب وزیرعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت
  • چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنے پر اسحاق ڈار کا اظہارِ تشکر
  • اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف