اسلام آباد، سیکرٹری ایف پی ایس سی سے جی بی کے نگران وزراء کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
ملاقات کے دوران سیکرٹری ایف پی ایس سی نے گلگت بلتستان میں ایف پی ایس سی کے لیے دفتر قائم کرنے کی درخواست کی، جسے جلد وزیرِ اعلیٰ اور چیف سیکرٹری سے بات چیت کر کے حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ نگران وزیرِ صحت گلگت بلتستان ڈاکٹر نیاز علی، وزیر لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی انجینئر الطاف حسین اور وزیر آئی ٹی و اطلاعات غلام عباس نے سیکرٹری ایف پی ایس سی ڈاکٹر محمد طارق موج سے ملاقات کی اور گلگت بلتستان کی مختلف اسامیوں پر جلد بھرتی/تقرری کے امور پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر متعدد زیرِ التوا تقرریوں پر جلد تعیناتی کی درخواست کی گئی، بالخصوص محکمہ صحت میں میڈیکل آفیسرز اور دیگر پیرا میڈیکل اسٹاف کی تقرری کے حوالے سے فوری ضرورت پر زور دیا گیا۔مزید برآں، گلگت بلتستان کے ریکروٹمنٹ رولز کو جلد حتمی شکل دے کر گورنر جی بی کو دستخط کے لیے بھیجنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔ اس ملاقات کے دوران سیکرٹری ایف پی ایس سی نے گلگت بلتستان میں ایف پی ایس سی کے لیے دفتر قائم کرنے کی درخواست کی، جسے جلد وزیرِ اعلیٰ اور چیف سیکرٹری سے بات چیت کر کے حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ آخر میں تینوں وزراء نے گلگت بلتستان کے امور میں تعاون پر ایف پی ایس سی کا شکریہ ادا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیکرٹری ایف پی ایس سی گلگت بلتستان کرنے کی
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔