بلوچستان حکومت کا مذہبی امور کے بعد محکمہ خوراک بھی ختم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
بلوچستان حکومت نے محکمہ مذہبی امور کے بعد محکمہ خوراک کو بھی ختم کرکے ایک نیا محکمہ قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
مزید پڑھیں: بلوچستان حکومت نے محکمہ مذہبی امور ختم کرنے کی منظوری دیدی
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خوراک نور محمد دومڑ نے کہاکہ نئے محکمہ کا نام ’کموڈیٹی منیجمنٹ ڈپارٹمنٹ‘ رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان کابینہ کے آئندہ اجلاس میں اس نئے محکمہ کے قیام کی باضابطہ منظوری دی جائےگی اور اس میں 4 ڈائریکٹوریٹ قائم کیے جائیں گے۔
نور محمد دومڑ نے مزید بتایا کہ ’کموڈیٹی منیجمنٹ ڈپارٹمنٹ‘ کا مقصد اشیائے ضروریہ کے انتظام، قیمتوں کے تعین، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی اور خوراک کے معیار کو یقینی بنانا ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئے محکمہ میں اسامیوں کی تعداد موجودہ 1370 سے کم کرکے 974 کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: آسان اقساط پر الیکٹرک اسکوٹیز کی فراہمی، بلوچستان حکومت اور نیشنل بینک کے درمیان معاہدہ
واضح رہے کہ بلوچستان حکومت نے حال ہی میں صوبائی محکمہ مذہبی امور کو بھی ختم کرنے کی منظوری دی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان حکومت ختم کرنے کا فیصلہ محکمہ خوراک محکمہ مذہبی امور وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان حکومت ختم کرنے کا فیصلہ محکمہ خوراک وی نیوز بلوچستان حکومت
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔