پتنگ بازی کے سامان کی قلت، لاہور میں بسنت کی رونقیں ماند پڑنے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: لاہور میں بسنت کی رونقیں ماند پڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، پتنگ بازی کے سامان کی قلت برقرار ہے جبکہ آن لائن پرمٹ سسٹم تاحال فعال نہ ہو سکا۔
ذرائع کے مطابق لاہورمیں پتنگ، گڈےاورڈورکی فراہمی بدستور محدود ہے، جبکہ لائسنس ہولڈرز آن لائن پرمٹ کے اجرا کےمنتظرہیں۔ انتظامیہ کی جانب سےقائم کیےگئے پورٹل پرتاحال پرمٹ فارم دستیاب نہیں ہو سکا، جس کے باعث کاروباری افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
پشاوربورڈ نے میٹرک امتحانات کے شیڈول کا اعلان کردیا
ضلعی انتظامیہ کاکہنا ہےکہ لائسنس ہولڈرز آن لائن پرمٹ حاصل کرکےدیگر شہروں سےپتنگ بازی کا سامان منگواسکتے ہیں۔ تاخیرکےباعث پتنگ،گڈےاورڈورکی قیمتوں میں مزید اضافےکا امکان ظاہرکیا جا رہا ہے۔
کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کےمطابق اگربروقت پتنگ بازی کاسامان دستیاب نہ ہوا تو بسنت کی رونقیں ماند پڑجائیں گی۔ ایسوسی ایشن نےانتظامیہ سے فوری طور پر پرمٹ جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان اسٹیل ملز کے اثاثے چوری ہونے لگے، چوری سے بچانےکیلئے بعض اثاثوں کی نیلامی کا فیصلہ
واضح رہے کہ ضلعی انتظامیہ نے گزشتہ روز دیگر شہروں سے پتنگ بازی کا سامان منگوانے کی اجازت دی تھی، تاہم عملی طور پر پرمٹ سسٹم تاحال غیر فعال ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پتنگ بازی
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔