پاکستانی جرنیلوں اور سیاسی رہنمائوں کی امریکا پرستی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260130-03-5
پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا چنانچہ پاکستان کی سیاست اور ریاست کو ایک سطح پر ’’خدا مرکز‘‘ دوسری سطح پر ’’رسول مرکز‘‘ تیسری سطح پر ’’قرآن مرکز‘‘ چوتھی سطح پر ’’تہذیب مرکز‘‘ اور پانچویں سطح پر ’’تاریخ مرکز‘‘ ہونا چاہیے تھا مگر پاکستان کے جرنیلوں اور ان کے پیدا کردہ سیاست دانوں نے پاکستان کو ’’امریکا مرکز‘‘ بنا کر رکھ دیا۔ یہ اسلام سے کھلی بغاوت ہے اور اسلام سے بغاوت کی سزا موت ہے مگر ہمارے جرنیل اور سیاست دان پاکستان کو ’’امریکا مرکز‘‘ بنا کر مزے کررہے ہیں۔
پاکستان کو سب سے پہلے امریکا مرکز بنانے والے جنرل ایوب خان تھے۔ انہوں نے مارشل لا تو 1958ء میں لگایا مگر امریکا کی خفیہ دستاویزات کے مطابق وہ 1954ء سے امریکا کے ساتھ خفیہ خط و کتابت کررہے تھے۔ وہ امریکا کو بتارہے تھے کہ پاکستان کے سیاست دان نااہل ہیں اور وہ پاکستان کو تباہ کردیں گے۔ یہ امریکا کو پاکستان کے معاملات میں مداخلت کے لیے اُکسانے والی بات تھی۔ دراصل وہ اس خط و کتابت کے ذریعے امریکا میں اپنی نوکری پکی کر رہے تھے۔ چنانچہ جب 1958ء میں جنرل ایوب نے مارشل لا لگایا تو امریکا نے اس مارشل لا پر رتی برابر بھی اعتراض نہ کیا۔ کیونکہ امریکا کو معلوم تھا کہ مارشل لا لگانے والا اس کا ’’اپنا آدمی‘‘ ہے۔ یہ جنرل ایوب ہی تھے جن کے دور میں پاکستان سیٹو اور سینٹو جیسے امریکی معاہدوں کا حصہ بنا۔ یہ جنرل ایوب ہی تھے جن کے دور میں امریکا کو بڈھ بیر کے مقام پر وہ خفیہ ہوائی اڈا فراہم کیا گیا جہاں سے امریکا سوویت یونین کی جاسوسی کرتا تھا۔ جنرل ایوب سے پہلے پاکستان امریکا کا معاشی غلام نہیں تھا مگر جنرل ایوب کے دور میں پاکستان نے عالمی بینک سے قرض حاصل کیا اس طرح اس معاشی غلامی کی بنیاد پڑی جو جنرل عاصم منیر تک آتے آتے اتنی گہری ہوگئی ہے کہ ہمارے بجٹ کا نصف حصہ غیر ملکی قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہوجاتا ہے۔ بدقسمتی سے اس غلامی کی ہولناکی یہ ہے کہ اب اپنا قومی بجٹ بھی ہم خود نہیں بناتے بلکہ آئی ایم ایف بناتا ہے جو کہ امریکا کا ایک اور معاشی ادارہ ہے۔ 1962ء کا سال جنرل ایوب ہی کے عہد میں آیا۔ پاکستان کے لیے اس سال کی اہمیت یہ ہے کہ اس سال چین اور بھارت کی بڑی جنگ ہوئی اور بھارت اپنی فوج کے ایک بڑے حصے کو پاکستان کی سرحد سے ہٹا کر چین کی سرحد پر لے گیا۔ چنانچہ چین کے وزیراعظم چوئن لائی نے جنرل ایوب کو پیغام بھیجا کہ آپ آگے بڑھیں اور بھارت سے اپنا کشمیر چھین لیں۔ قوموں کو ایسے موقعے صدیوں میں ایک بار ملتے ہیں۔ جنرل ایوب کے سینے میں کسی مسلمان کا دل دھڑک رہا ہوتا تو وہ کشمیر میں فوج داخل کرکے بھارت سے کشمیر چھین لیتے مگر بدقسمتی سے چوئن لائی کے اس پیغام کی اطلاع امریکا کو ہوگئی اور امریکا نے جنرل ایوب سے کہا کہ آپ کشمیر میں کچھ بھی نہ کریں۔ چین بھارت جنگ ختم ہوگی تو ہم کشمیر کا مسئلہ حل کرادیں گے۔ یہ جنرل ایوب کی امریکا پرستی کی انتہا تھی ورنہ کشمیر 1962ء ہی میں پاکستان کا حصہ بن گیا ہوتا اور آج پاک بھارت تعلقات کی تاریخ بہت مختلف ہوتی۔ جنرل ایوب اس حد تک امریکا کے غلام تھے کہ خود ان کے ضمیر نے انہیں اس کا طعنہ دیا۔ اس طعنے نے جنرل ایوب سے ’’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘‘ نامی کتاب لکھوائی۔ اس کتاب میں جنرل ایوب نے ’’تاثر‘‘ دیا کہ ہم امریکا کے ’’دوست‘‘ ہیں ’’غلام‘‘ نہیں۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس یہ تھی کہ ہم امریکا کے غلام تھے دوست نہیں۔ بھلا شیطان بھی کبھی انسان کا دوست بن سکتا ہے؟ بھلا ’’آقا‘‘ اور ’’غلام‘‘ کے درمیان بھی کبھی دوستی ہوسکتی ہے؟
جنرل ایوب کی جگہ جنرل یحییٰ آئے۔ قیادت کی تبدیلی سے خارجہ پالیسی بھی بدل جانی چاہیے تھی مگر جنرل ایوب امریکا کے جیسے غلام تھے جنرل یحییٰ بھی ویسے ہی غلام ثابت ہوئے۔ اس غلامی کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ 1971ء میں پاکستان ٹوٹ رہا تھا لیکن امریکا اپنے ’’اتحادی‘‘ کی مدد کرنے سے قاصر تھا۔ جنرل یحییٰ نے امریکا سے مدد مانگی۔ امریکا نے وعدہ کیا کہ وہ ساتواں بحری بیڑہ پاکستان کی مدد کے لیے بھیج رہا ہے مگر یہ بحری بیڑہ کبھی پاکستان نہ پہنچ سکا اور پاکستان دولخت ہوگیا۔ اس سے پہلے جنرل یحییٰ نے امریکا اور چین کی دوستی کرائی اور امریکا کے وزیر خارجہ ہینری کسنجر پاکستان سے چین کے خفیہ دورے پر چین گئے۔ امریکا نے پاکستان اور پاکستانی قوم کو تو کچھ نہیں دیا مگر اس نے اپنی خدمت کرنے پر جنرل یحییٰ کی جان ضرور بچائی۔ بی بی سی اردو سروس سے وابستہ ممتاز صحافی آصف جیلانی نے چند سال پیش تر جسارت میں شائع ہونے والے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ میں نے بھٹو سے پوچھا تھا کہ آپ نے جنرل یحییٰ پر پاکستان توڑنے کا مقدمہ کیوں نہیں چلایا تو بھٹو نے کہا کہ امریکا نے پیغام دیا تھا کہ جنرل یحییٰ کو کچھ نہ کہا جائے کیونکہ انہوں نے امریکا اور چین کی دوستی میں پُل کا کردار ادا کیا ہے۔
جنرل پرویز مشرف کی پوری تاریخ بھی ہمارے سامنے ہے۔ ایک وقت وہ تھا جب امریکا کا صدر بل کلنٹن پاکستان کے ایک روزہ دورے پر بھی آمادہ نہ تھا۔ وہ پاکستان آیا تو اس شرط کے ساتھ کہ وہ صرف ہوائی اڈے تک محدود رہے گا اور وہیں سے پاکستانی قوم کے ساتھ خطاب کرے گا۔ مگر نائن الیون کے بعد امریکا کو پاکستان کی ضرورت پڑی تو جنرل پرویز مشرف نے ایک ٹیلی فون کال پر پورا پاکستان امریکا کے حوالے کردیا۔ انہوں نے پاکستان کے تین فوجی اڈے اور پوری بندرگاہ امریکا کو سونپ دی۔ امریکا کی جو جنگ اسلام کے خلاف تھی، مسلمانوں کے خلاف تھی جنرل پرویز مشرف نے اس جنگ کو ’’گود‘‘ لے لیا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کے اندر جو خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہوئی وہ 70 ہزار لوگوں کو نگل گئی اور اس سے پاکستان کا سو ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ جنرل پرویز مشرف امریکا کی اس جنگ میں ’’امریکی فوجی‘‘ کا کردار ادا کررہے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ مغربی ذرائع ابلاغ ’’مشرف‘‘ کو امریکی صدر ’’بش‘‘ کی رعایت سے ’’بُشّرف‘‘ کہا کرتے تھے۔
یہ ایک سامنے کی بات ہے کہ امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک شیطان صفت انسان ہیں۔ اسرائیل غزہ میں 80 ہزار فلسطینیوں کو شہید کرچکا ہے۔ ایک لاکھ سے زیادہ فلسطینی زخمی ہیں۔ اسرائیل نے پورے غزہ کو مسمار کردیا ہے۔ اسرائیل نے عورتوں اور بچوں تک کو معاف نہیں کیا۔ مگر جنرل عاصم منیر کے عہد میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کو ’’امن‘‘ کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔ ٹرمپ نہ صرف یہ کہ اسرائیل جیسے شیطان ملک کی ڈھال ہے بلکہ وہ ایران میں شورش برپا کرنے والی شخصیت بھی ہے۔ اس کے باوجود جنرل عاصم منیر کے حوالے سے پاکستان میں جو کھیل چل رہا ہے اس کی ایک معمولی سی جھلک روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی چھے کالمی خبر کی یہ سرخی ہے۔
’’میرے پسندیدہ فیلڈ مارشل کیسے ہیں، صدر ٹرمپ کا شہباز شریف سے سوال۔ دنیا بھر کے ٹی وی چینلوں نے امریکی صدر اور شہباز شریف کو عاصم منیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دکھایا‘‘۔
یہ خبر انصار عباسی کی ہے جنہیں جنگ کے کالم نویس سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں ’’پنڈی والا‘‘ قرار دے چکے ہیں۔ گویا ہمارے جرنیل اور ان کے پیداہ کردہ سیاسی حکمران آج بھی جنرل ایوب کے عہد میں سانس لے رہے ہیں۔
امریکا کی پاکستان دشمنی کی پوری تاریخ بھی ہمارے سامنے ہے۔ امریکا خود کو جمہوریت کا علمبردار کہتا ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ اس نے ہمیشہ پاکستان میں فوجی آمروں کی سرپرستی کی ہے۔ اس نے جنرل ایوب کی آمریت کو دوام بخشا۔ اس نے جنرل یحییٰ کو مواخذے سے بچایا۔ اس نے جنرل ضیا الحق کو تقویت پہنچائی۔ اس نے جنرل پرویز کی ڈھال کا کردار ادا کیا۔ امریکا خود کو ’’آزادی‘‘ کی علامت باور کراتا ہے۔ مگر اس نے کبھی پاکستان میں فوجی آمروں کو قوم کی سیاسی آزادی پر ڈاکا ڈالنے سے نہیں روکا۔ امریکا پوری دنیا میں قانون کی بالادستی کی بات کرتا ہے مگر اس نے کبھی پاکستان میں آئین کی پاسداری پر اصرار نہیں کیا۔ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ بے نظیر بھٹو جیسی رہنما نے جنرل پرویز کے ساتھ سمجھوتا بھی کیا تو امریکا کے سائے میں کھڑے ہو کر یہاں تک کہ جنرل پرویز کے دور میں میاں نواز شریف سعودی عرب فرار ہوئے تو آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے کہا کہ امریکا اپنے آدمی کو نکال کر لے گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنرل پرویز مشرف نے جنرل ایوب پاکستان میں میں پاکستان پاکستان کے پاکستان کی پاکستان کو کے دور میں امریکا نے امریکا کی امریکا کو امریکا کے جنرل یحیی پاکستان ا کہ امریکا مارشل لا کے ساتھ تھا کہ کے لیے ہے مگر
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔