Jasarat News:
2026-07-24@09:45:45 GMT

پاکستانی جرنیلوں اور سیاسی رہنمائوں کی امریکا پرستی

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260130-03-5
پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا چنانچہ پاکستان کی سیاست اور ریاست کو ایک سطح پر ’’خدا مرکز‘‘ دوسری سطح پر ’’رسول مرکز‘‘ تیسری سطح پر ’’قرآن مرکز‘‘ چوتھی سطح پر ’’تہذیب مرکز‘‘ اور پانچویں سطح پر ’’تاریخ مرکز‘‘ ہونا چاہیے تھا مگر پاکستان کے جرنیلوں اور ان کے پیدا کردہ سیاست دانوں نے پاکستان کو ’’امریکا مرکز‘‘ بنا کر رکھ دیا۔ یہ اسلام سے کھلی بغاوت ہے اور اسلام سے بغاوت کی سزا موت ہے مگر ہمارے جرنیل اور سیاست دان پاکستان کو ’’امریکا مرکز‘‘ بنا کر مزے کررہے ہیں۔

پاکستان کو سب سے پہلے امریکا مرکز بنانے والے جنرل ایوب خان تھے۔ انہوں نے مارشل لا تو 1958ء میں لگایا مگر امریکا کی خفیہ دستاویزات کے مطابق وہ 1954ء سے امریکا کے ساتھ خفیہ خط و کتابت کررہے تھے۔ وہ امریکا کو بتارہے تھے کہ پاکستان کے سیاست دان نااہل ہیں اور وہ پاکستان کو تباہ کردیں گے۔ یہ امریکا کو پاکستان کے معاملات میں مداخلت کے لیے اُکسانے والی بات تھی۔ دراصل وہ اس خط و کتابت کے ذریعے امریکا میں اپنی نوکری پکی کر رہے تھے۔ چنانچہ جب 1958ء میں جنرل ایوب نے مارشل لا لگایا تو امریکا نے اس مارشل لا پر رتی برابر بھی اعتراض نہ کیا۔ کیونکہ امریکا کو معلوم تھا کہ مارشل لا لگانے والا اس کا ’’اپنا آدمی‘‘ ہے۔ یہ جنرل ایوب ہی تھے جن کے دور میں پاکستان سیٹو اور سینٹو جیسے امریکی معاہدوں کا حصہ بنا۔ یہ جنرل ایوب ہی تھے جن کے دور میں امریکا کو بڈھ بیر کے مقام پر وہ خفیہ ہوائی اڈا فراہم کیا گیا جہاں سے امریکا سوویت یونین کی جاسوسی کرتا تھا۔ جنرل ایوب سے پہلے پاکستان امریکا کا معاشی غلام نہیں تھا مگر جنرل ایوب کے دور میں پاکستان نے عالمی بینک سے قرض حاصل کیا اس طرح اس معاشی غلامی کی بنیاد پڑی جو جنرل عاصم منیر تک آتے آتے اتنی گہری ہوگئی ہے کہ ہمارے بجٹ کا نصف حصہ غیر ملکی قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہوجاتا ہے۔ بدقسمتی سے اس غلامی کی ہولناکی یہ ہے کہ اب اپنا قومی بجٹ بھی ہم خود نہیں بناتے بلکہ آئی ایم ایف بناتا ہے جو کہ امریکا کا ایک اور معاشی ادارہ ہے۔ 1962ء کا سال جنرل ایوب ہی کے عہد میں آیا۔ پاکستان کے لیے اس سال کی اہمیت یہ ہے کہ اس سال چین اور بھارت کی بڑی جنگ ہوئی اور بھارت اپنی فوج کے ایک بڑے حصے کو پاکستان کی سرحد سے ہٹا کر چین کی سرحد پر لے گیا۔ چنانچہ چین کے وزیراعظم چوئن لائی نے جنرل ایوب کو پیغام بھیجا کہ آپ آگے بڑھیں اور بھارت سے اپنا کشمیر چھین لیں۔ قوموں کو ایسے موقعے صدیوں میں ایک بار ملتے ہیں۔ جنرل ایوب کے سینے میں کسی مسلمان کا دل دھڑک رہا ہوتا تو وہ کشمیر میں فوج داخل کرکے بھارت سے کشمیر چھین لیتے مگر بدقسمتی سے چوئن لائی کے اس پیغام کی اطلاع امریکا کو ہوگئی اور امریکا نے جنرل ایوب سے کہا کہ آپ کشمیر میں کچھ بھی نہ کریں۔ چین بھارت جنگ ختم ہوگی تو ہم کشمیر کا مسئلہ حل کرادیں گے۔ یہ جنرل ایوب کی امریکا پرستی کی انتہا تھی ورنہ کشمیر 1962ء ہی میں پاکستان کا حصہ بن گیا ہوتا اور آج پاک بھارت تعلقات کی تاریخ بہت مختلف ہوتی۔ جنرل ایوب اس حد تک امریکا کے غلام تھے کہ خود ان کے ضمیر نے انہیں اس کا طعنہ دیا۔ اس طعنے نے جنرل ایوب سے ’’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘‘ نامی کتاب لکھوائی۔ اس کتاب میں جنرل ایوب نے ’’تاثر‘‘ دیا کہ ہم امریکا کے ’’دوست‘‘ ہیں ’’غلام‘‘ نہیں۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس یہ تھی کہ ہم امریکا کے غلام تھے دوست نہیں۔ بھلا شیطان بھی کبھی انسان کا دوست بن سکتا ہے؟ بھلا ’’آقا‘‘ اور ’’غلام‘‘ کے درمیان بھی کبھی دوستی ہوسکتی ہے؟

جنرل ایوب کی جگہ جنرل یحییٰ آئے۔ قیادت کی تبدیلی سے خارجہ پالیسی بھی بدل جانی چاہیے تھی مگر جنرل ایوب امریکا کے جیسے غلام تھے جنرل یحییٰ بھی ویسے ہی غلام ثابت ہوئے۔ اس غلامی کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ 1971ء میں پاکستان ٹوٹ رہا تھا لیکن امریکا اپنے ’’اتحادی‘‘ کی مدد کرنے سے قاصر تھا۔ جنرل یحییٰ نے امریکا سے مدد مانگی۔ امریکا نے وعدہ کیا کہ وہ ساتواں بحری بیڑہ پاکستان کی مدد کے لیے بھیج رہا ہے مگر یہ بحری بیڑہ کبھی پاکستان نہ پہنچ سکا اور پاکستان دولخت ہوگیا۔ اس سے پہلے جنرل یحییٰ نے امریکا اور چین کی دوستی کرائی اور امریکا کے وزیر خارجہ ہینری کسنجر پاکستان سے چین کے خفیہ دورے پر چین گئے۔ امریکا نے پاکستان اور پاکستانی قوم کو تو کچھ نہیں دیا مگر اس نے اپنی خدمت کرنے پر جنرل یحییٰ کی جان ضرور بچائی۔ بی بی سی اردو سروس سے وابستہ ممتاز صحافی آصف جیلانی نے چند سال پیش تر جسارت میں شائع ہونے والے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ میں نے بھٹو سے پوچھا تھا کہ آپ نے جنرل یحییٰ پر پاکستان توڑنے کا مقدمہ کیوں نہیں چلایا تو بھٹو نے کہا کہ امریکا نے پیغام دیا تھا کہ جنرل یحییٰ کو کچھ نہ کہا جائے کیونکہ انہوں نے امریکا اور چین کی دوستی میں پُل کا کردار ادا کیا ہے۔

جنرل پرویز مشرف کی پوری تاریخ بھی ہمارے سامنے ہے۔ ایک وقت وہ تھا جب امریکا کا صدر بل کلنٹن پاکستان کے ایک روزہ دورے پر بھی آمادہ نہ تھا۔ وہ پاکستان آیا تو اس شرط کے ساتھ کہ وہ صرف ہوائی اڈے تک محدود رہے گا اور وہیں سے پاکستانی قوم کے ساتھ خطاب کرے گا۔ مگر نائن الیون کے بعد امریکا کو پاکستان کی ضرورت پڑی تو جنرل پرویز مشرف نے ایک ٹیلی فون کال پر پورا پاکستان امریکا کے حوالے کردیا۔ انہوں نے پاکستان کے تین فوجی اڈے اور پوری بندرگاہ امریکا کو سونپ دی۔ امریکا کی جو جنگ اسلام کے خلاف تھی، مسلمانوں کے خلاف تھی جنرل پرویز مشرف نے اس جنگ کو ’’گود‘‘ لے لیا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کے اندر جو خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہوئی وہ 70 ہزار لوگوں کو نگل گئی اور اس سے پاکستان کا سو ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ جنرل پرویز مشرف امریکا کی اس جنگ میں ’’امریکی فوجی‘‘ کا کردار ادا کررہے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ مغربی ذرائع ابلاغ ’’مشرف‘‘ کو امریکی صدر ’’بش‘‘ کی رعایت سے ’’بُشّرف‘‘ کہا کرتے تھے۔

یہ ایک سامنے کی بات ہے کہ امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک شیطان صفت انسان ہیں۔ اسرائیل غزہ میں 80 ہزار فلسطینیوں کو شہید کرچکا ہے۔ ایک لاکھ سے زیادہ فلسطینی زخمی ہیں۔ اسرائیل نے پورے غزہ کو مسمار کردیا ہے۔ اسرائیل نے عورتوں اور بچوں تک کو معاف نہیں کیا۔ مگر جنرل عاصم منیر کے عہد میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کو ’’امن‘‘ کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔ ٹرمپ نہ صرف یہ کہ اسرائیل جیسے شیطان ملک کی ڈھال ہے بلکہ وہ ایران میں شورش برپا کرنے والی شخصیت بھی ہے۔ اس کے باوجود جنرل عاصم منیر کے حوالے سے پاکستان میں جو کھیل چل رہا ہے اس کی ایک معمولی سی جھلک روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی چھے کالمی خبر کی یہ سرخی ہے۔

’’میرے پسندیدہ فیلڈ مارشل کیسے ہیں، صدر ٹرمپ کا شہباز شریف سے سوال۔ دنیا بھر کے ٹی وی چینلوں نے امریکی صدر اور شہباز شریف کو عاصم منیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دکھایا‘‘۔

یہ خبر انصار عباسی کی ہے جنہیں جنگ کے کالم نویس سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں ’’پنڈی والا‘‘ قرار دے چکے ہیں۔ گویا ہمارے جرنیل اور ان کے پیداہ کردہ سیاسی حکمران آج بھی جنرل ایوب کے عہد میں سانس لے رہے ہیں۔

امریکا کی پاکستان دشمنی کی پوری تاریخ بھی ہمارے سامنے ہے۔ امریکا خود کو جمہوریت کا علمبردار کہتا ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ اس نے ہمیشہ پاکستان میں فوجی آمروں کی سرپرستی کی ہے۔ اس نے جنرل ایوب کی آمریت کو دوام بخشا۔ اس نے جنرل یحییٰ کو مواخذے سے بچایا۔ اس نے جنرل ضیا الحق کو تقویت پہنچائی۔ اس نے جنرل پرویز کی ڈھال کا کردار ادا کیا۔ امریکا خود کو ’’آزادی‘‘ کی علامت باور کراتا ہے۔ مگر اس نے کبھی پاکستان میں فوجی آمروں کو قوم کی سیاسی آزادی پر ڈاکا ڈالنے سے نہیں روکا۔ امریکا پوری دنیا میں قانون کی بالادستی کی بات کرتا ہے مگر اس نے کبھی پاکستان میں آئین کی پاسداری پر اصرار نہیں کیا۔ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ بے نظیر بھٹو جیسی رہنما نے جنرل پرویز کے ساتھ سمجھوتا بھی کیا تو امریکا کے سائے میں کھڑے ہو کر یہاں تک کہ جنرل پرویز کے دور میں میاں نواز شریف سعودی عرب فرار ہوئے تو آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے کہا کہ امریکا اپنے آدمی کو نکال کر لے گیا۔

شاہنواز فاروقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جنرل پرویز مشرف نے جنرل ایوب پاکستان میں میں پاکستان پاکستان کے پاکستان کی پاکستان کو کے دور میں امریکا نے امریکا کی امریکا کو امریکا کے جنرل یحیی پاکستان ا کہ امریکا مارشل لا کے ساتھ تھا کہ کے لیے ہے مگر

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی