Jasarat News:
2026-06-02@23:58:46 GMT

پاکستانی جرنیلوں اور سیاسی رہنمائوں کی امریکا پرستی

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا چنانچہ پاکستان کی سیاست اور ریاست کو ایک سطح پر ’’خدا مرکز‘‘ دوسری سطح پر ’’رسول مرکز‘‘ تیسری سطح پر ’’قرآن مرکز‘‘ چوتھی سطح پر ’’تہذیب مرکز‘‘ اور پانچویں سطح پر ’’تاریخ مرکز‘‘ ہونا چاہیے تھا مگر پاکستان کے جرنیلوں اور ان کے پیدا کردہ سیاست دانوں نے پاکستان کو ’’امریکا مرکز‘‘ بنا کر رکھ دیا۔ یہ اسلام سے کھلی بغاوت ہے اور اسلام سے بغاوت کی سزا موت ہے مگر ہمارے جرنیل اور سیاست دان پاکستان کو ’’امریکا مرکز‘‘ بنا کر مزے کررہے ہیں۔

پاکستان کو سب سے پہلے امریکا مرکز بنانے والے جنرل ایوب خان تھے۔ انہوں نے مارشل لا تو 1958ء میں لگایا مگر امریکا کی خفیہ دستاویزات کے مطابق وہ 1954ء سے امریکا کے ساتھ خفیہ خط و کتابت کررہے تھے۔ وہ امریکا کو بتارہے تھے کہ پاکستان کے سیاست دان نااہل ہیں اور وہ پاکستان کو تباہ کردیں گے۔ یہ امریکا کو پاکستان کے معاملات میں مداخلت کے لیے اُکسانے والی بات تھی۔ دراصل وہ اس خط و کتابت کے ذریعے امریکا میں اپنی نوکری پکی کر رہے تھے۔ چنانچہ جب 1958ء میں جنرل ایوب نے مارشل لا لگایا تو امریکا نے اس مارشل لا پر رتی برابر بھی اعتراض نہ کیا۔ کیونکہ امریکا کو معلوم تھا کہ مارشل لا لگانے والا اس کا ’’اپنا آدمی‘‘ ہے۔ یہ جنرل ایوب ہی تھے جن کے دور میں پاکستان سیٹو اور سینٹو جیسے امریکی معاہدوں کا حصہ بنا۔ یہ جنرل ایوب ہی تھے جن کے دور میں امریکا کو بڈھ بیر کے مقام پر وہ خفیہ ہوائی اڈا فراہم کیا گیا جہاں سے امریکا سوویت یونین کی جاسوسی کرتا تھا۔ جنرل ایوب سے پہلے پاکستان امریکا کا معاشی غلام نہیں تھا مگر جنرل ایوب کے دور میں پاکستان نے عالمی بینک سے قرض حاصل کیا اس طرح اس معاشی غلامی کی بنیاد پڑی جو جنرل عاصم منیر تک آتے آتے اتنی گہری ہوگئی ہے کہ ہمارے بجٹ کا نصف حصہ غیر ملکی قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہوجاتا ہے۔ بدقسمتی سے اس غلامی کی ہولناکی یہ ہے کہ اب اپنا قومی بجٹ بھی ہم خود نہیں بناتے بلکہ آئی ایم ایف بناتا ہے جو کہ امریکا کا ایک اور معاشی ادارہ ہے۔ 1962ء کا سال جنرل ایوب ہی کے عہد میں آیا۔ پاکستان کے لیے اس سال کی اہمیت یہ ہے کہ اس سال چین اور بھارت کی بڑی جنگ ہوئی اور بھارت اپنی فوج کے ایک بڑے حصے کو پاکستان کی سرحد سے ہٹا کر چین کی سرحد پر لے گیا۔ چنانچہ چین کے وزیراعظم چوئن لائی نے جنرل ایوب کو پیغام بھیجا کہ آپ آگے بڑھیں اور بھارت سے اپنا کشمیر چھین لیں۔ قوموں کو ایسے موقعے صدیوں میں ایک بار ملتے ہیں۔ جنرل ایوب کے سینے میں کسی مسلمان کا دل دھڑک رہا ہوتا تو وہ کشمیر میں فوج داخل کرکے بھارت سے کشمیر چھین لیتے مگر بدقسمتی سے چوئن لائی کے اس پیغام کی اطلاع امریکا کو ہوگئی اور امریکا نے جنرل ایوب سے کہا کہ آپ کشمیر میں کچھ بھی نہ کریں۔ چین بھارت جنگ ختم ہوگی تو ہم کشمیر کا مسئلہ حل کرادیں گے۔ یہ جنرل ایوب کی امریکا پرستی کی انتہا تھی ورنہ کشمیر 1962ء ہی میں پاکستان کا حصہ بن گیا ہوتا اور آج پاک بھارت تعلقات کی تاریخ بہت مختلف ہوتی۔ جنرل ایوب اس حد تک امریکا کے غلام تھے کہ خود ان کے ضمیر نے انہیں اس کا طعنہ دیا۔ اس طعنے نے جنرل ایوب سے ’’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘‘ نامی کتاب لکھوائی۔ اس کتاب میں جنرل ایوب نے ’’تاثر‘‘ دیا کہ ہم امریکا کے ’’دوست‘‘ ہیں ’’غلام‘‘ نہیں۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس یہ تھی کہ ہم امریکا کے غلام تھے دوست نہیں۔ بھلا شیطان بھی کبھی انسان کا دوست بن سکتا ہے؟ بھلا ’’آقا‘‘ اور ’’غلام‘‘ کے درمیان بھی کبھی دوستی ہوسکتی ہے؟

جنرل ایوب کی جگہ جنرل یحییٰ آئے۔ قیادت کی تبدیلی سے خارجہ پالیسی بھی بدل جانی چاہیے تھی مگر جنرل ایوب امریکا کے جیسے غلام تھے جنرل یحییٰ بھی ویسے ہی غلام ثابت ہوئے۔ اس غلامی کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ 1971ء میں پاکستان ٹوٹ رہا تھا لیکن امریکا اپنے ’’اتحادی‘‘ کی مدد کرنے سے قاصر تھا۔ جنرل یحییٰ نے امریکا سے مدد مانگی۔ امریکا نے وعدہ کیا کہ وہ ساتواں بحری بیڑہ پاکستان کی مدد کے لیے بھیج رہا ہے مگر یہ بحری بیڑہ کبھی پاکستان نہ پہنچ سکا اور پاکستان دولخت ہوگیا۔ اس سے پہلے جنرل یحییٰ نے امریکا اور چین کی دوستی کرائی اور امریکا کے وزیر خارجہ ہینری کسنجر پاکستان سے چین کے خفیہ دورے پر چین گئے۔ امریکا نے پاکستان اور پاکستانی قوم کو تو کچھ نہیں دیا مگر اس نے اپنی خدمت کرنے پر جنرل یحییٰ کی جان ضرور بچائی۔ بی بی سی اردو سروس سے وابستہ ممتاز صحافی آصف جیلانی نے چند سال پیش تر جسارت میں شائع ہونے والے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ میں نے بھٹو سے پوچھا تھا کہ آپ نے جنرل یحییٰ پر پاکستان توڑنے کا مقدمہ کیوں نہیں چلایا تو بھٹو نے کہا کہ امریکا نے پیغام دیا تھا کہ جنرل یحییٰ کو کچھ نہ کہا جائے کیونکہ انہوں نے امریکا اور چین کی دوستی میں پُل کا کردار ادا کیا ہے۔

جنرل پرویز مشرف کی پوری تاریخ بھی ہمارے سامنے ہے۔ ایک وقت وہ تھا جب امریکا کا صدر بل کلنٹن پاکستان کے ایک روزہ دورے پر بھی آمادہ نہ تھا۔ وہ پاکستان آیا تو اس شرط کے ساتھ کہ وہ صرف ہوائی اڈے تک محدود رہے گا اور وہیں سے پاکستانی قوم کے ساتھ خطاب کرے گا۔ مگر نائن الیون کے بعد امریکا کو پاکستان کی ضرورت پڑی تو جنرل پرویز مشرف نے ایک ٹیلی فون کال پر پورا پاکستان امریکا کے حوالے کردیا۔ انہوں نے پاکستان کے تین فوجی اڈے اور پوری بندرگاہ امریکا کو سونپ دی۔ امریکا کی جو جنگ اسلام کے خلاف تھی، مسلمانوں کے خلاف تھی جنرل پرویز مشرف نے اس جنگ کو ’’گود‘‘ لے لیا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کے اندر جو خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہوئی وہ 70 ہزار لوگوں کو نگل گئی اور اس سے پاکستان کا سو ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ جنرل پرویز مشرف امریکا کی اس جنگ میں ’’امریکی فوجی‘‘ کا کردار ادا کررہے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ مغربی ذرائع ابلاغ ’’مشرف‘‘ کو امریکی صدر ’’بش‘‘ کی رعایت سے ’’بُشّرف‘‘ کہا کرتے تھے۔

یہ ایک سامنے کی بات ہے کہ امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک شیطان صفت انسان ہیں۔ اسرائیل غزہ میں 80 ہزار فلسطینیوں کو شہید کرچکا ہے۔ ایک لاکھ سے زیادہ فلسطینی زخمی ہیں۔ اسرائیل نے پورے غزہ کو مسمار کردیا ہے۔ اسرائیل نے عورتوں اور بچوں تک کو معاف نہیں کیا۔ مگر جنرل عاصم منیر کے عہد میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کو ’’امن‘‘ کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔ ٹرمپ نہ صرف یہ کہ اسرائیل جیسے شیطان ملک کی ڈھال ہے بلکہ وہ ایران میں شورش برپا کرنے والی شخصیت بھی ہے۔ اس کے باوجود جنرل عاصم منیر کے حوالے سے پاکستان میں جو کھیل چل رہا ہے اس کی ایک معمولی سی جھلک روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی چھے کالمی خبر کی یہ سرخی ہے۔

’’میرے پسندیدہ فیلڈ مارشل کیسے ہیں، صدر ٹرمپ کا شہباز شریف سے سوال۔ دنیا بھر کے ٹی وی چینلوں نے امریکی صدر اور شہباز شریف کو عاصم منیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دکھایا‘‘۔

یہ خبر انصار عباسی کی ہے جنہیں جنگ کے کالم نویس سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں ’’پنڈی والا‘‘ قرار دے چکے ہیں۔ گویا ہمارے جرنیل اور ان کے پیداہ کردہ سیاسی حکمران آج بھی جنرل ایوب کے عہد میں سانس لے رہے ہیں۔

امریکا کی پاکستان دشمنی کی پوری تاریخ بھی ہمارے سامنے ہے۔ امریکا خود کو جمہوریت کا علمبردار کہتا ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ اس نے ہمیشہ پاکستان میں فوجی آمروں کی سرپرستی کی ہے۔ اس نے جنرل ایوب کی آمریت کو دوام بخشا۔ اس نے جنرل یحییٰ کو مواخذے سے بچایا۔ اس نے جنرل ضیا الحق کو تقویت پہنچائی۔ اس نے جنرل پرویز کی ڈھال کا کردار ادا کیا۔ امریکا خود کو ’’آزادی‘‘ کی علامت باور کراتا ہے۔ مگر اس نے کبھی پاکستان میں فوجی آمروں کو قوم کی سیاسی آزادی پر ڈاکا ڈالنے سے نہیں روکا۔ امریکا پوری دنیا میں قانون کی بالادستی کی بات کرتا ہے مگر اس نے کبھی پاکستان میں آئین کی پاسداری پر اصرار نہیں کیا۔ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ بے نظیر بھٹو جیسی رہنما نے جنرل پرویز کے ساتھ سمجھوتا بھی کیا تو امریکا کے سائے میں کھڑے ہو کر یہاں تک کہ جنرل پرویز کے دور میں میاں نواز شریف سعودی عرب فرار ہوئے تو آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے کہا کہ امریکا اپنے آدمی کو نکال کر لے گیا۔

شاہنواز فاروقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جنرل پرویز مشرف نے جنرل ایوب پاکستان میں میں پاکستان پاکستان کے پاکستان کی پاکستان کو کے دور میں امریکا نے امریکا کی امریکا کو امریکا کے جنرل یحیی پاکستان ا کہ امریکا مارشل لا کے ساتھ تھا کہ کے لیے ہے مگر

پڑھیں:

امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ

اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی

بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔

بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔

اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔

وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔

امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔

فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔

سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔

بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔

4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار