ترک جنرل اسٹاف سربراہ کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
راولپنڈی(نیوزڈیسک) ترکیہ کے جنرل اسٹاف کے سربراہ جنرل سیلکوک بایراکتاراوغلو پاکستان کے دورے پر جنرل ہیڈ کوارٹرز پہنچے، جہاں انہیں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا اورفیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات ہوئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی اور عالمی سلامتی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیاجبکہ دوطرفہ دفاعی اور فوجی تعاون کو مضبوط بنانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔
آئی ایس پی آر کا کہناتھا کہ ملاقات میں پاک ترک تعلقات کی موجودہ رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا گیا، فریقین نے قریبی رابطوں کو برقرار رکھنے اور دفاعی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات پر روشنی ڈالی، چیف آف ڈیفنس فورسز نے ترک مسلح افواج کی حمایت اور تعاون کو سراہا۔
فیلڈمارشل نے دوطرفہ عسکری تعلقات مزید مضبوط بنانے کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ جنرل سیلکوک بیرکتاراوغلو نے پرتپاک استقبال پر فیلڈمارشل سے اظہار تشکر کیا۔
ترکیہ کے جنرل اسٹاف کے سربراہ نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا۔ ترک جنرل کا تربیت،مشترکہ مشقوں اور دفاعی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔